جہاد کا تصور اسلام میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ جنگی مقابلہ سے اعراض کریں۔ چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں مکہ سے نکلے اور خاموشی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت واضح طور پر پر تشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک مثال ہے۔
۳۔ غزوہ خندق یا غزوہ احزاب بھی اسی سنت کی ایک مثال ہے۔ اس موقع پر مختلف قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ واضح طور پر آپ کے مخالفین کی طرف سے ایک جنگی چیلنج تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ رات دن کی محنت سے اپنے اور مخالفین کے درمیان ایک لمبی خندق کھود دی۔ اس وقت کے حالات میں یہ خندق گویا ایک حاجزہ یاٹکرروک طریقہ (buffer) تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرار ہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پر تشد دعمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔
۴۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادہ کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا۔ مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفرختم کر دیا اور قریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کر کے مدینہ واپس آگئے ۔ یہ بھی واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔
۵۔ فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طور پر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues