جہاد کا تصور اسلام میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہ: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) اس مسلمہ فقہی اصول کا تقاضا ہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا از سر نو انطباق (re-application) تلاش کیا جائے، تا کہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے اسی طرح یقینی طور پر اس کا تعلق جنگ کے معاملہ سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پر تشدد طریق کار کو اب عملاً متروک قرار دیا جائے اور صرف پر امن طریق کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔ موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلح جہاد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر کوئی تحریک محض اس بنا پر جہاد کی تحریک نہیں ہو سکتی کہ اس کے علم برداروں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا ہو۔ کوئی عمل صرف اس وقت اسلامی جہاد قرار پاتا ہے جب کہ وہ اسلام کی مقرر کی ہوئی شرطوں پر پورا اترے۔ جہاد کی شرطوں کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے وہ عملاً جہاد نہیں ہوگا بلکہ فساد ہوگا۔ جو لوگ اس کام میں مشغول ہوں وہ اپنے اس کام پر جہاد کا انعام نہیں پائیں گے بلکہ اللہ کی طرف سے وہ صرف سزا کے مستحق ہوں گے۔
جہاد بمعنی قتال کی شرطیں کیا کیا ہیں، اس کو میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں ۔ یہاں صرف ایک بات کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ جہاد بمعنی قتال کی حیثیت نماز روزہ جیسے انفرادی عمل کی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق مکمل طور پر ریاست سے ہے۔ جہاد (بمعنی قتال) کی یہ اصولی حیثیت قرآن و حدیث کی مختلف نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے خوف کی صورت پیدا ہو تو اس کو لے کر خود سے اس کے خلاف کارروائی شروع نہ کر دو بلکہ اس کو اولوالأمر (ارباب حکومت) کی طرف لوٹاؤ، تاکہ وہ معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھیں اور اس کے بارہ میں صحیح اور ضروری اقدام کریں (النساء ۸۳)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ خوف (جنگی صورت حال) پیش آنے کی صورت میں عوام کے لیے خود سے اقدام کرنا جائز
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues