Al-Risala · September 2001 · page

جہاد کا تصور اسلام میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

نہیں۔ وہ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ معاملہ کو حاکم کے حوالہ کردیں اور حاکم کی طرف سے جو اقدام کیا جائے اس میں اس کا ساتھ دیں۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: انما امام جنة، يقاتل من ورائه و يتقى به (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب يقاتل من وراء الإمام، ويتقى به) یعنی بلاشبہ امام ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگی دفاع ہمیشہ حاکم کی قیادت میں کیا جائے گا۔ عام مسلمانوں کا فرض صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے حاکم کی اتباع کریں اور اس کا ساتھ دے کر حکومت کے منصوبہ کو کامیاب بنائیں۔

فقہ میں یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں غالباً کسی قابل ذکر عالم کا اختلاف نہیں۔ چنانچہ فقہاء کے متفقہ مسلک کے مطابق ، جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی کرسکتی ہے، غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ: الرحیل للإمام (جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم وقت کا کام ہے۔ )

اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔ اس قسم کا منظم عمل صرف با اختیار حکومت ہی کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔

موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پُر تشدد ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ مگر تقریباً بلا استثناء ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فساد کی ہے نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی’’جہاد‘‘ کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کی طرف سے شروع کیا گیا اور انہی کی طرف سے ان کو چلایا جارہاہے۔ اگران میں سے کسی جہادی سرگرمی کو بالفرض کسی مسلم حکومت کا تعاون حاصل ہے تو یہ تعاون بلا اعلان صرف خفیہ انداز میں کیا جارہا ہے، اور

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page