خلاصۂ بحث
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸
مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں جن کو رد کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں تطبیق کا صحیح فارمولا وہ نہیں ہے جو امام شافعی نے اپنے مذکورہ قول میں پیش کیا۔ اس کے بجائے تطبیق کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ آداب نماز میں فرق واختلاف کے معاملے کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک۔
آخری بات یہ کہ آداب نماز کے معاملہ میں روایتوں کا اختلاف کوئی نقص کی بات نہیں بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ نماز کوئی مشینی عمل نہیں، وہ کیفیت کے ساتھ ادا کیا جانے والا ایک روحانی عمل ہے۔ مشینی عمل میں کلی یکسانیت ہو سکتی ہے مگر کیفی عمل میں کلی یکسانیت ممکن نہیں۔ کیفی عمل میں بنیادی ارکان کے اعتبار سے تو ضرور یکسانیت ہوگی مگر اس کے جزئی پہلوؤں میں فطری طور پر کچھ نہ کچھ فرق ہو جائے گا اور یہ فرق عبادت گذار کی داخلی کیفیت کی بنا پر ہوگا۔
داخلی کیفیت کے اعتبار سے نماز کے جزئی پہلوؤں میں فرق ہونا خود احادیث سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی کا رکوع سے اٹھنے کے بعد خلاف معمول طور پر یہ کہہ اٹھنا: ربنا لك الحمد حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی تصدیق فرمانا، وغیرہ۔ سوال غیر مسلم لوگ ہم سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ تمہارے مذہب میں باپ کے مرنے کے بعد پوتا حق وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے یہ تو بڑا ظلم ہے۔ اس اعتراض کا کیا جواب ہے۔ (عبدالسلام، ڈھاکہ، بہار)
جواب
محجوب پوتے کی وراثت کا جو مسئلہ فقہ میں ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ محجوب پوتے کو وراثت ہی نہ دو۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وراثتی نقشہ میں درمیانی لنک ٹوٹ جانے کی وجہ سے ایسے پوتے کو ظاہری قانون کے اعتبار سے وراثت نہیں پہنچتی۔ ایسی حالت میں قانونی ڈھانچہ کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے طریقہ سے اس کی تلافی کی جائے۔ تلافی کا یہ طریقہ وصیت کا اصول ہے۔ یعنی جہاں براہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues