Al-Risala · September 2001 · page 37

خلاصۂ بحث

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷

دوسرے کو آدابِ نماز کہا جاسکتا ہے۔ ارکان سے مراد نماز کے وہ اجزاء ہیں جن میں تمام صحابہ متفق ہیں اور جن میں تمام صحابہ کی روایتیں ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں آداب سے مراد نماز کے وہ جزئی پہلو ہیں جن میں صحابہ کی روایتوں میں فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ارکانِ نماز میں توحّد (یکسانیت) مطلوب ہے اور آدابِ نماز میں تنوع۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مختلف روایتوں میں سے کچھ روایتوں کو چھوڑتے ہیں اور کچھ روایتوں کو لیتے ہیں اور پھر اپنی منتخب روایتوں کی بنیاد پر ایک تصویر بنا کر کہتے ہیں کہ یہ نماز نبوی (صلاۃ النبی) ہے۔ ان لوگوں سے کہا جائے کہ جن ثابت شدہ روایتوں کو آپ نے چھوڑا ہے وہ بھی تو آخر نماز نبوی ہی کا حصہ ہیں۔ اس کے جواب میں وہ یہ کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا۔ مگر ’’بیانِ جواز‘‘ کا یہ نظریہ قیاسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نماز کا کوئی ایک واحد معین طریقہ مطلوب تھا تو اس کی کیا ضرورت تھی کہ ’’بیانِ جواز‘‘ کے لئے ایک مختلف طریقہ کا نمونہ قائم کیا جائے۔ وہ چیزیں جو ارکانِ نماز کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں آپ نے بیانِ جواز کی خاطر کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ پھر بیانِ جواز کا جو اصول ارکانِ نماز میں غیر مطلوب تھا وہ آدابِ نماز میں کیوں مطلوب ہوگیا۔

اس معاملہ کی نوعیت امام شافعی کے قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ ۔ اگر چہ خود بھی انہوں نے انتخابی اصول کو استعمال کرتے ہوئے نمازِ نبوی کی ایک تصویر بنائی۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: رأیی صواب يحتمل الخطاء و رأى غیرى خطاء يحتمل الصواب (میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ، اور میرے علاوہ کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتھ)۔

انتخابی تصویر بنانے کی ساری کوشش کے بعد بھی کیا وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے حق میں صرف احتمال خطا یا احتمالِ صواب ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق جب کچھ منتخب روایتوں کو لے کر اپنی تصویر مکمل کرتا ہے تو اُس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ میری تصویر کے علاوہ بھی بہت سی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page