خلاصۂ بحث
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰
سے پہلے اعلیٰ انسانی صفات (human qualities) موجود تھیں ۔ حدیث کی زبان ، اسلام نے ان کے اندر فقہ (شعورِ ایمان) کا اضافہ کیا۔ اس طرح جاہلیت کے بہترین لوگ اسلام میں بہترین لوگ بن گئے (خیار کم فی الجاہلية خیاركم في الإسلام إذا فقہوا)۔
عرب کے یہ لوگ جو اسلام میں آنے کے بعد بہترین امت بن گئے، وہ کسی پر اسرار قسم کی قربانی کے ذریعہ نہیں بنے۔ بلکہ وہ دعوتی جد و جہد کے ذریعہ بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ اور قرآن کے مطالعہ نے ان کے اندر حق کا شعور پیدا کیا۔ ان کے اندر ذہنی بیداری آئی۔ اس طرح انہوں نے معرفت (دریافت) کے طور پر اللہ کے دین کو پایا۔ یہ مکمل طور پر فکری انقلاب (intellectual revolution) کے ذریعہ پیش آنے والا ایک واقعہ تھا نہ کہ کسی پر اسرار قربانی کے ذریعہ پر اسرار طور پر پیش آنے والا کوئی واقعہ۔
سوال
آپ کی تحریروں کے ذریعہ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ کسی بھی اسلامی دور میں متروک نہیں رہا ہے۔ اور آپ کی تحریروں سے بعض لوگوں کے اس استنباط کی بھی تردید ہوتی ہے کہ دعوتی و دینی نقطہ نظر سے امت مسلمہ پر طویل قرونِ مظلمہ کا دور گزر رہا ہے۔ میرے اس خط کا موضوع صوفیاء کرام کی تبلیغی و دعوتی کوشش ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ۱۲۰۰ء کے بعد جب کہ صوفی تحریک کو عالمگیر فروغ حاصل ہوا، کیا اس دور میں بھی صوفیائے کرام نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام نہیں دیا ہے، اس ضمن میں میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ (شکیل احمد فاروقی، مہاراشٹر) جواب یہ بات صحیح ہے کہ حضرات صوفیاء نے براہ راست طور پر دعوتی کام نہیں کیا۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ غیر مسلموں کے پاس جا کر کہیں کہ : ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا صوفیاء کا جو کارنامہ ہے اس کو معاون دعوت کا نام کہا جا سکتا ہے نہ کہ براہ راست دعوت و تبلیغ کا کارنامہ۔ اصل یہ ہے کہ دورِ اول کے بعد اسلام عالمی طور پر ایک معروف دین بن گیا تھا۔ مزید یہ کہ اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues