خلاصۂ بحث
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱
فطری سادگی کی بنا پر اس کے اندر ہر انسان کے لیے کشش تھی۔ اس طرح اسلام کے اندر اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کی طاقت پیدا ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی اشاعت ایک عمل (process) کے روپ میں خود اپنے زور پر مسلسل ہونے لگی۔ دور اول کی بعد کی تاریخ میں اسلام اسی طرح اپنے آپ پھیلتا رہا۔
صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ منفی کام نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے نادان مسلم لیڈروں نے کیا۔ ان لیڈروں نے قومی تحریکیں چلا کر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مصنوعی طور پر تناؤ کا ماحول پیدا کر دیا۔ اور اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان نفرت پیدا کر کے اسلام کے اشاعتی عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔ صوفیاء نے اپنے آپ کو اس قسم کے منفی عمل سے مکمل طور پر بچایا۔ انہوں نے اپنے مخصوص طریقہ کے ذریعہ مختلف فرقوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی فضا قائم کی۔ اس طرح معتدل اور خوشگوار تعلقات کے درمیان جب مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط بڑھا تو اپنے آپ اسلام بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ صوفیاء کی براہ راست تبلیغ کے بغیر لوگ جوق در جوق آ کر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے۔
مدنی دور میں صلح حدیبیہ کے بعد ہی یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ اسلام کی اشاعت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں یا داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی نہ ہو اور معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ہونے لگے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ صوفیاء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی امکان کو استعمال کیا جو بدقسمتی سے کوئی دوسرا مسلم گروہ استعمال نہ کر سکا۔ سوال اس وقت عالم اسلام جن مسائل سے دوچار ہے ان میں شاید سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف زہر افشانی اور تکفیر تک کرتے رہتے ہیں جو اتحاد بین المسلمین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میں خود ایک گروہ سے وابستہ ہوں اور اس کی قدر کرتا ہوں مگر دوسرے کچھ گروہ اس کی تکفیر کرتے ہیں، اس معاملہ میں آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ (محمد جنید احمد حقانی، اسکاٹ، کشمیر)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues