نئی دہلی، ۶ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶
دنیا میں اگر کوئی گروہ اقلیت میں ہو تو اسے اپنے آپ کو کم سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ایک فطری عمل (natural process) کے ذریعہ خود بخود ایسا ہوگا کہ اقلیتی گروہ کی صلاحیتیں زیادہ بیدار ہوں گی۔ اس کے مقابلہ میں اکثریتی گروہ کی صلاحیتیں خفتہ رہ جائیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اکثریتی گروہ کے مقابلہ میں اقلیتی گروہ ہر لحاظ سے زیادہ آگے بڑھ جائے گا۔ اقلیتی گروہ اکثریتی گروہ پر فائَق ثابت ہوگا۔ فطرت کا یہ قانون اکثریتی گروہ کے لئے ایک مستقل وارننگ ہے، اور اقلیتی گروہ کے لئے ایک مستقل خوش خبری۔
ناگپور میں مذکورہ قسم کے ایک اجتماع کو دیکھنے کے بعد میرا تاثر یہ تھا کہ جس شہر میں اتنا کامیاب مسلم اجتماع کرنا ممکن ہو وہاں اس قسم کی بات کہنا بھی ناشکری ہے کہ یہاں اینٹی مسلم جماعت کا سنٹر ہے۔ قرآن کے مطابق ،اصل اہمیت کی بات یہ نہیں ہے کہ ملک میں کچھ مسلم مخالف لوگ رہتے ہیں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ حقیقی یا فرضی مخالفین کے باوجود اس ملک کے مسلمان مکمل طور پر آزاد ہیں۔ وہ ہر قسم کی دینی اور ملی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دے سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ناشکری سے بچیں، اور اللہ کا شکر ادا کریں تا کہ وہ ہمیں اپنی مزید نعمتیں عطا فرمائے (لئن شکرتم لأزيدنكم)۔
شکر کا مطلب اعتراف ہے۔ شکر کا مزاج آدمی کے اندر مثبت نفسیات پیدا کرتا ہے اور وہ منفی نفسیات کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ اس قسم کا مثبت مزاج جس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے، اس کی ذہنی اور عملی ترقی کو کوئی چیز روکنے والی نہیں۔
نئی دہلی، ۶ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues