پُرورٹ، اس باری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵
الترمذی اور ابن ماجہ (کتاب الزہد) کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما فی الارض موضع اربع اصابع الا و ملک واضع جَبْهَتَهُ ساجداً للہ۔ یعنی زمین میں چار انگل جگہ بھی نہیں مگر وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے، اللہ کے سجدہ کی حالت میں موجود ہے۔
اس حدیث کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہماری زمین پر اللہ کے فرشتے اتنی زیادہ تعداد میں متعین ہیں گویا کہ ہر ۱۳ انچ پر ایک فرشتہ موجود ہے۔ اور ناگپور بھی بلا شبہ اسی زمین کا ایک مختصر حصہ ہے۔ پھر جب زمین کے انتظام پر خدا کے فرشتے اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہوں تو ہمیں کسی انسانی تنظیم سے ڈرنے کی کیا ضرورت۔
زمین کے ہر چار انگل پر ایک فرشتہ کا حالت سجدہ میں ہونا اقتدارِ الہی کی ایک تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر اللہ نے بہت بڑے پیمانہ پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ یہ کنٹرول اس بات کی ضمانت ہے کہ خدا کی اس زمین پر کوئی نا انصافی مستقل طور پر باقی نہ رہے۔ کوئی دبا ہوا طبقہ ہمیشہ کے لیے بی ہوئی حالت میں نہ پڑا رہے۔
ناگپور کی تقریر میں میں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اس ملک کے لئے سرمایہ (asset) ہیں۔ وہ اس ملک کے لئے بوجھ (liability) نہیں ہیں۔ اور یہ براہ راست انتظام خداوندی کے تحت ہے۔ اس دنیا میں خود قانون فطرت کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ ایک اقلیت ہمیشہ تخلیقی اقلیت (creative minority) بنتی چلی جاتی ہے اور ہر اکثریت ہمیشہ غیر تخلیقی اکثریت (uncreative majority) بنتی رہتی ہے۔ یہ بات ایک امریکی سروے کے ذریعہ با قاعدہ طور پر ثابت ہو چکی ہے۔ فطرت کا یہ اٹل نظام گویا خالق کی طرف سے اقلیتوں کا ایک مستقل محافظ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃً بِإِذْنِ اللہ (البقرہ ۲۴۹)۔
فطرت کے مذکورہ قانون کی روشنی میں اس آیت کی تشریح کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ خدا کی اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues