عقیدہ خدا اور سائنس
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۸
کے ذرات بکھر کر تیزی سے بیرونی سمت میں سفر کرنے لگے۔ اس کے بعد یہ ذرات وسیع خلا میں مختلف مجموعوں کی صورت میں اکٹھا ہو گئے۔ انہیں مجموعوں سے خلا میں پائی جانے والی وہ دنیا میں بنیں جن کو ستارہ، سیارہ، کہکشاں، شمسی نظام، زمین اور چاند جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سپر ایٹم کا یہ دھماکہ بیک وقت دو چیزیں ثابت کرتا ہے۔ ایک یہ کہ یہاں کائنات سے الگ ایک طاقتور ہستی پہلے سے موجود تھی جس نے اپنی ارادی مداخلت کے ذریعہ یہ غیر معمولی واقعہ کیا کہ سپر ایٹم کے ذرات داخلی رخ پر سفر کے بجائے بیرونی رخ پر سفر کرنے لگے۔ اس واقعہ کا دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ دھماکہ (explosion) ہمیشہ تخریبی نتائج کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ سے لے کر بم تک ہر دھماکہ بلا استثناء یہی خاصیت رکھتا ہے۔ مگر سپر ایٹم کا دھماکہ استثنائی طور پر غیر تخریبی تھا۔ اس نے مکمل طور پر صرف صحت مند اور تعمیری نتائج پیدا کئے۔ یہ استثنائی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا ئنات کا خالق لا محدود قدرت کا مالک ہے۔ وہ یہ استثنائی اختیار رکھتا ہے کہ واقعہ کے ساتھ نتائج پر مکمل کنٹرول کر سکے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ وہ غبارہ کی مانند مسلسل طور پر بیرونی سمت میں پھیل رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا ایک متعین آغاز ہے۔ اگر کائنات ابدی ہوتی تو وہ اپنی اس پھیلتی ہوئی نوعیت کی بنا پر اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ ثابت ہونا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے، یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی آغاز کرنے والا ہے۔ ایک غیر موجود چیز کا آغاز اس وقت ممکن ہے جب کہ اس سے پہلے کوئی موجود ہو جو اپنے ارادہ سے اُس کا آغاز کر سکے۔
کائنات میں ایسے بے شمار شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا منصوبہ ساز اور اس کا ناظم صرف ایک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ناظم ہوتے تو یقینی طور پر کائنات میں فساد برپا ہو جاتا۔
مثال کے طور پر زمین اور سورج کا فاصلہ تقریباً ۹ کروڑ ۳۰ لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues