Al-Risala · October 2001 · page 9

عقیدہ خدا اور سائنس

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۹

مسلسل طور پر اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے۔ اگر اس فاصلہ میں تبدیلی آجائے تو اس کے مہلک نتائج پیدا ہوں گے۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ بڑھ کر ۲۰ کرور میل دور ہو جائے تو زمین پر اتنی ٹھنڈ پیدا ہو کہ پانی، نباتات، حیوانات اور انسان سب منجمد ہو جائیں۔ اسی طرح یہ فاصلہ اگر کم ہو کر ۵ کرور میل ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ تمام چیزیں بشمول انسان جل کر ختم ہو جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج اور زمین دونوں کا خدا ایک ہے۔ اگر دونوں کے خدا الگ الگ ہوتے تو دونوں الگ الگ اپنی مرضی چلاتے اور پھر یقینی طور پر یہ فاصلہ گھٹتا یا بڑھتا رہتا اور اس بے قاعدگی کی بنا پر زمین پر انسانی تہذیب کا وجود نا ممکن ہو جاتا۔

نا معلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثناء ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی ان گنت چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جب کہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقائے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو ۔ یہ استثناء بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادہ کے ذریعہ نہیں بنی بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ ہے۔ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہو تیں نہ کہ صرف ایک ایسی زمین۔

ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک با معنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً زمین کے حجم (سائز) کو لیجئے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً ۲۵ ہزار میل کی گولائی میں ہے۔ یہ حجم بے حد با معنی ہے۔ چنانچہ یہ حجم اگر ۵۰ ہزار میل ہو تا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ بڑھ جاتی کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتیے قسم کے انسان دکھائی دیتے۔ اس کے بر عکس اگر زمین کا حجم گھٹ کر ۱۲ ہزار میل ہو تا تو اس کی قوت کشش اتنی کم ہو جاتی کہ وہ انسانی بڑھوتری کو روک نہ سکتی۔ انسان کا قد تار کی طرح لمبا ہو جاتا۔ اس کے سوا اور بے شمار قسم کے غیر موافق حالات پیدا ہوتے جو انسان کی تمام تمدنی ترقیوں کو نا ممکن بنا دیتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page