Al-Risala · February 2001 · page 4

الدین کیا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴

الدین کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ارشاد ہوا ہے: شرع لكم من الدين ما وصى به نوحاً والذى اوحينا إليك وما وصينا به ابرهيم و موسى وعيسى أن اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه كبر على المشركين ما تدعوهم اليه الله يجتبى اليه من يشاء و يهدی اليه من ينيب۔ (الشوریٰ ۱۳) یعنی اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں الگ الگ نہ ہو جاؤ۔ مشرکین پر وہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلا رہے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے۔ اور وہ اپنی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں الدین سے کیا مراد ہے اور اس کی اقامت کا مطلب کیا ہے۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ دین کا لفظ، بہت سے دوسرے الفاظ کی طرح، ایک سے زیادہ معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً دین بمعنی جزاء (الفاتحه ۳) دین بمعنی قانون (یوسف ۷۹) دین بمعنی اطاعت (النساء ۱۲۵) دین بمعنی مذہب (الکافرون ۶)، وغیرہ۔

یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اس آیت میں اقيموا الدين کا مطلب یہ ہے کہ دین کو ان سارے ہی معنوں میں قائم کرو۔ ایسا کہنا بلاغت کلام کے خلاف ہے۔ بلاغت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ لغت کے اعتبار سے اگر ایک لفظ کے کئی معنی ہوں تب بھی جب وہ کسی عبارت میں استعمال ہوگا تو اس عبارت میں وہ اپنے صرف ایک معنی میں مراد ہوگا جو کہ سیاق (context) سے متعین ہورہا ہو۔ مزید یہ کہ ایسا کہنا عقلی اعتبار سے ایک مضحکہ خیز بات ہوگی۔ ایسی حالت میں اقيموا الدين کی تشریح میں دوسرے مفہومات کے ساتھ یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ تم روزِ جزاء کو قائم کرو،

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page