الدین کیا ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۵
کیوں کہ دین کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ حالانکہ روز جزا ء کو قائم کرنا اللہ کا مخصوص معاملہ ہے، وہ سرے سے انسان کے بس ہی میں نہیں۔
اب غور کیجئے کہ سورہ الشوریٰ کی مذکورہ آیت کا سیاق کلام کیا ہے اور سیاق کے اعتبار سے یہ لفظ یہاں کس متعین مفہوم میں آیا ہے۔
اس پہلو سے غور کرتے ہوئے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ اس آیت میں ایک ایسے الدین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے جو پیغمبرِ اسلام کے سوا دوسرے پیغمبروں پر بھی یکساں طور پر اترا تھا۔ آیت یہ حکم دیتی ہے کہ تم متفرق ہوئے بغیر اسی واحد اور مشترک دین پر عمل کرو اور اس پر پوری طرح قائم ہو جاؤ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خود پیغمبر اسلام پر اترے ہوئے تمام احکام یہاں مراد نہیں ہو سکتے۔
آیت کے الفاظ کے مطابق، یہاں اقیموا الدین میں دین کا صرف وہ حصہ مراد ہوگا جو ”شریعت“ کے علاوہ ہے۔ کیوں کہ شریعت کے متعلق واضح طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مختلف پیغمبروں کی شریعتیں الگ الگ اور ایک دوسرے سے مختلف تھیں (المائدہ ۲۸) ایسی حالت میں تمام پیغمبروں کی مشترک پیروی صرف ان امور دین میں ہو سکتی ہے جو شریعت اور منہاج کے علاوہ ہیں، اور جن میں ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ اس آیت میں قرآن کے تمام مفسرین نے بلا استثناء اقیموا الدین کا یہی مفہوم لیا ہے۔ مستند مفسرین میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اقیموا الدین کی آیت کا یہ مطلب بتائے کہ شرائع سمیت تمام دینی احکام کو قائم کرو۔ اس کے برعکس ہر مفسر یہ کہتا ہے کہ شرائع کے سوا جو اساسی دین ہے اور جس میں پیغمبروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اس دین مشترک کو قائم کرو۔ ملاحظہ ہو مدارك التنزيل، روح المعانی، تفسیر كبير، البحر المحيط، الخازن، الجامع لاحكام القرآن، تفسير ابن كثیر، تفسیر ابن جریر الطبری، تفسیر النسفی،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues