آگ سے بچاؤ
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۰
آگ سے بچاؤ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو وہاں آپ نے سب سے پہلے ایک مسجد بنائی جو مسجد نبوی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں آپ نے جو پہلا جمعہ پڑھا، اس میں آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :
اے لوگو، اپنے لیے کچھ آگے بھیجو۔ جان لو کہ خدا کی قسم تم میں سے ہر شخص موت کا نشانہ بنے گا۔ پھر وہ اپنی بکریوں کو اس حال میں چھوڑ کر چلائے گا کہ ان کا کوئی چرواہا نہ ہوگا۔ پھر اس کا رب اس سے کلام کرے گا اور وہاں کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ اور نہ درمیان میں کوئی پردہ ہوگا۔ وہ فرمانے لگا کہ کیا تمہارے پاس میرا فرستادہ نہیں آیا جس نے تم کو میرا پیغام پہنچایا۔ اور میں نے تم کو مال دیا اور تمہارے اوپر اپنا فضل کیا۔ پھر تم نے اپنے آگے کے لیے کیا بھیجا۔ بندہ اپنے دائیں اور بائیں دیکھے گا۔ مگر وہ کچھ نہ پائے گا۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا۔ تو وہاں جہنم کے سوا اور کچھ نہ دیکھے گا۔ پس جو شخص اپنا چہرہ آگ سے بچاسکے وہ بچائے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو (البداية والنهاية، ۲۱۳/۳)
آدمی کے اندر موت اور قیامت کے مسئلہ کا شدید احساس پیدا ہو جائے تو وہ چاہنے لگتا ہے کہ جو بھی قیمت وہ دے سکتا ہے، اس کو دے کر وہ اپنے آپ کو آخرت کے عذاب سے بچائے۔
رات کے وقت وہ بستر پر لیٹا ہوا ہے۔ آخرت کے مسئلہ کو سوچ کر وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے اور نماز کے لیے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ خدایا، میری اس نماز کو میری طرف سے قبول کرلے اور مجھے آگ کے عذاب سے بچالے۔ وہ ایک شخص کو مصیبت میں دیکھتا ہے، وہ اپنی محنت کی کمائی کا ایک حصہ اس کو دیتا ہے اور اس کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا، آج میں نے جس طرح اس کی مدد کی ہے، تو آنے والے سخت تر دن میں میری مدد فرما۔ ایک حق اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اپنی پوزیشن کا خیال کیے بغیر اس کا اعتراف کر لیتا ہے اور آنسوؤں کی زبان سے کہتا ہے کہ خدایا، مجھے اپنے ان بندوں میں لکھ لے جنہوں نے دیکھے بغیر تیرا اعتراف کیا۔
ہر عمل، کھجور کا ایک ٹکڑا ہے، اور جس آدمی کے پاس جو ٹکڑا ہے، اس کو چاہیے کہ اسی ٹکڑے کو وہ اپنی نجات کے لیے پیش کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues