ایک نشانی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۱
ایک نشانی
پچھلے روز ایک لیڈر کا انتقال ہو گیا۔ آج ٹی وی پر اس کے حالات دکھائے گئے ۔ اتفاق سے مجھے اس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ کل کے اخبار میں میں نے اس کے انتقال کی خبر پڑھی تھی۔ آج میں نے ٹی وی اسکرین پر دیکھا کہ وہ چل رہا ہے۔ وہ تقریر کر رہا ہے۔ وہ لوگوں سے ملاقات اور بات چیت کر رہا ہے۔ اس طرح دیر تک ٹی وی پر اس کی زندگی دکھائی دیتی رہی۔ اس کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ٹی وی مجھ سے یہ کہہ رہا ہو کہ جس آدمی کو تم نے سمجھا تھا کہ وہ مرگیا، وہ مرا نہیں۔ وہ اب بھی زندہ حالت میں موجود ہے۔ وہ اب بھی ٹھیک اسی طرح زندہ ہے جیسا کہ وہ موت کا واقعہ پیش آنے سے پہلے زندہ تھا۔ اگر تم کو ” ٹی وی “ کی نگاہ حاصل ہو جائے تو آج بھی تم اس کو پہلے کی طرح چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہو۔
ٹی وی خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہ نہ دکھائی دینے والی حقیقتوں کو دکھا رہا ہے ۔ وہ آج محدود طور پر ان چیزوں کو ظاہر کر رہا ہے جو آئندہ مکمل طور پر تمام لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائیں گی۔ وہ گویا کل مشاہدہ سے پہلے حقائق کا جزئی مشاہدہ ہے۔ آدمی دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ بچہ سے بڑا ہوتا ہے۔ صبح و شام کی صورت میں اس کے دن گزرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کا آخر وقت آ جاتا ہے۔ وہ دنیا کے ماحول سے نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس کو آخرت کے ماحول میں بسایا جائے اور اس کے اعمال کے مطابق اس کی ابدی زندگی کا فیصلہ کیا جائے ۔
ہر وہ شخص جو پیدا ہوا ہے، وہ ضرور ایک دن موت سے دوچار ہوگا۔ اور موت کے بعد ضرور وہ آخرت کی دنیا میں داخل کیا جائے گا جہاں اس کو خدا کی عدالت میں اپنا مکمل حساب دینا پڑے ۔ جس طرح زندگی یقینی ہے، اسی طرح موت یقینی ہے۔ اور جس طرح موت یقینی ہے، اسی طرح قیامت اور آخرت کا معاملہ بھی یقینی ہے، آدمی اس سے بھاگ نہیں سکتا، البتہ وہ تیاری کر کے اس کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ دانش مند وہ ہے جو آج کے اندر کل کو دیکھ لے۔ جو آج کے واقعہ میں اپنے کل کے لیے نصیحت حاصل کر لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues