Al-Risala · November 2001 · page 12

پہلے آپ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲

پہلے آپ

ڈاکٹر سو جَات مو کو انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر تھے۔ وہ جکارتہ یونیورسٹی میں ایک علمی موضوع پر لیکچر دے رہے تھے۔ عین لیکچر کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ اسٹیج ہی پر گر پڑے اور اسی وقت وفات پاگیے۔ وہ پہلے ایشیائی تھے جو اقوام متحدہ کی امن یونیورسٹی ٹوکیو کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں:

Prof Dr. Soedjatmoko, one of the leading intellectuals of Indonesia while delivering a lecture at a University campus, in Jogjakarta, had a heart attack, collapsed and expired. He was the first Asian to become the President of UN's Peace University in Tokyo. He has written a number of books. ڈاکٹر سو جَات مو کو کا کیس موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کیس ہے۔ پریس اور میڈیا اور پلیٹ فارم کے ظہور نے ہر آدمی کو بولنے کے لا متناہی مواقع دیےئے ہیں۔ ہر آدمی صبح و شام بولنے میں مصروف ہے۔ آج ہر آدمی دوسروں کو سنارہا ہے۔ حالاں کہ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہر آدمی کی طرف آرہے ہیں تاکہ اس کو لے جاکر وہاں کھڑا کردیں جہاں اس کو صرف سننا ہے، سنانے کا موقع آخری طور پر اس کے لیے ختم ہوچکا ہے۔

علم لفظوں سے واقفیت کا نام نہیں ہے بلکہ معانی سے واقفیت کا نام ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا کام بولنا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا کام چپ رہنا ہے۔ یہاں اصل اہمیت اظہار رائے کی نہیں ہے بلکہ اظہار رائے سے پہلے سوچنے کی ہے۔

بولنے والا حقیقہ وہ ہے جو اپنے آپ سے بولے ۔ بتانے والا وہ ہے جو اپنے دماغ کو سوچنے میں لگائے ہوئے ہو۔ دوسروں کو نصیحت کرنے والا وہ ہے جو دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرے، جو دوسروں کو مخاطب کرنے سے پہلے اپنا مخاطب خود بن جائے۔ جو دوسروں پر بلنڈرز چلانے کا نعرہ لگانے سے پہلے خود اپنی ذات پر بلڈوند چلا چکا ہو۔ دوسروں کو مخاطب کرنا سب سے آسان کام ہے اور اپنے آپ کو مخاطب کرنا سب سے مشکل۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues

Printed page