ہے حقیقت میرے دیں کی احتساب کا ئنات
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۷
یہ مسئلہ در اصل اس اصول سے تعلق رکھتا ہے کہ کس آیت سے کون سا حکم اخذ کیا جائے۔ مثال کے طور پر آیت صلوۃ سے صلوۃ کا حکم نکالا جائے گا نہ کہ حج اور جہاد کا۔ اسی طرح جس آیت میں فرد کی داخلی ذمہ داریوں کو بتایا گیا ہو اس آیت سے امت کی خارجی ذمہ داریوں کا حکم نکالنا درست نہیں ہو سکتا۔
قرآن کی جس آیت میں جو حکم آیا ہے، جب اس آیت سے وہی حکم نکالا جائے تو دین میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہو گا۔ دین کے تمام تقاضے اپنی جگہ درست طور پر قائم رہیں گے۔ اس کے بر عکس جب کسی آیت سے وہ حکم نکالا جائے جو اس خاص آیت میں نہیں ہے تو یہ طریقہ وضع الشی فی غیر موضعه کا مصداق بن جائے گا اور حکم کا اصل مقصد حاصل نہ ہو سکے گا۔ مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یا ایہا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط (النساء ۱۳۵) اس آیت میں مسلمانوں کی ذاتی ذمہ داری کی بابت ایک حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو، تم اپنی ذاتی زندگی میں خوب خوب انصاف پر قائم رہنے والے بنو۔ یہ آیت فرد اَفْرادِ مسلمان کو اس کی اپنی ذمہ داری کو بتاتی ہے۔
اب اگر اس آیت سے خارجی اور سیاسی معنوں میں نفاذ انصاف کا حکم نکالا جانے لگے تو اس کا رخ بالکل بدل جائے گا۔ اب ہر مسلمان اپنی ذات کو نشانہ بنانے کی بجائے باہر کے سیاسی حکمرانوں کو اپنے عمل کا نشانہ سمجھ لے گا۔ اس کو یہ فکر تو نہ ہوگی کہ وہ اپنے ذاتی معاملات کو تقویٰ اور انصاف پر قائم کرے البتہ وہ اس پر شور اعلان کے ساتھ سڑکوں پر نکل پڑے گا کہ مجھے ساری دنیا میں اسلام کے عدل کا جھنڈا گاڑنا ہے۔ مجھے ان تمام سیاسی طاقتوں سے لڑنا ہے جو اسلامی عدل کے زمینی نفاذ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ذاتی احتساب کا جذبہ اس کو نہیں تڑپائے گا، البتہ وہ یہ نعرہ لگاتا ہوا دوسروں کے خلاف گن کلچر چلا دے گا کہ :
ہے حقیقت میرے دیں کی احتساب کا ئنات
اس طرح دین کے نام پر ایک ایسی بے دینی پیدا ہوگی جہاں دین کے نام پر پر شور ہنگامے ضرور
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues