Al-Risala · February 2001 · page 6

الدین کیا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۶

یہاں مثال کے طور پر ایک تفسیری اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ القرطبی (وفات اے ۶۷) نے اپنی عربی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس کا اردو ترجمہ یہ ہے: اقیموالدین سے مراد ہے اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت۔ اور ایمان لانا اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور یوم جزاء پر۔ اور ان تمام چیزوں پر جس کی اقامت سے آدمی مسلم ہوتا ہے۔ اور یہاں شرائع مقصود نہیں جو امتوں کے احوال پر مبنی مصالح سے تعلق رکھتے ہیں کیوں کہ شرائع مختلف اور متفرق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے شریعت اور منہاج الگ الگ مقرر کیا۔

پس اس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ہم نے تم کو اور نوح کو ایک ہی دین کا حکم دیا ہے۔ یعنی وہ اصول جن میں شریعتوں کا اختلاف نہیں۔ اور وہ ہے توحید اور صلاۃ اور زکاۃ اور صیام اور صالح اعمال کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا۔ اور سچائی اور ایفائے عہد اور امانت کی ادائیگی اور صلۂ رحم۔ اور کفر اور قتل اور زنا کو حرام جاننا اور انسانوں کو تکلیف پہنچانا اور حیوانات کو ستانا اور برائیوں میں مبتلا ہونا، پس یہ سب کی سب دین واحد کی حیثیت سے مشروع ہیں۔ ان میں انبیاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں خواہ ان انبیاء کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۱۱/۱۶) معلوم ہوا کہ سیاق اور تمام مفسرین کی رائے کے مطابق ، اقیموالدین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ” مکمل دین بشمول شرائع کو زمین پر قائم کرو،“ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد مسلم سے جو کچھ اس کی انفرادی حیثیت میں مطلوب ہے اس پر وہ مکمل طور پر قائم ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت کا خطاب دراصل فرد سے ہے نہ کہ پورے نظام اجتماع سے۔ جہاں تک اجتماعی نظام کا تعلق ہے، وہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے اور اس معاملہ میں جو کچھ مطلوب ہے اس کا حکم دوسری آیتوں اور حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے اور وہیں اس کو دیکھنا چاہئے۔ جہاں تک سورۂ الشوریٰ کی مذکورہ آیت کا تعلق ہے وہ ایک فرد کی دین داری کو بتا رہی ہے اور یہی چیز اس آیت سے اخذ کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page