منصوبہ تخلیق
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶
مستقبل پکار رہا ہے درخت کیا ہے ۔ درخت خدا کا ایک جادو ہے ۔ وہ ایک معجزاتی واقعہ ہے جو خدا اپنی خصوصی قدرت سے زمین پر ظاہر کرتا ہے۔ درخت اس بات کا اعلان ہے کہ کوئی ہے جو اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا اس کے لئے زندگی اور ہریالی کا ایک نیا امکان کھول دے ، کوئی ہے جو خدا کے ساتھ ایک امید قائم کرے تاکہ خدا اس کی امید کو اس کے قیاس و گمان سے بھی زیادہ بڑی مقدار میں اس کے حق میں پورا کر دے۔
جب برسات کا موسم آتا ہے اور پانی سے لدے ہوئے بادل آسمان میں تیرنا شروع کرتے ہیں۔ بجلی کی کڑک چمک فضاؤں میں ایک تبدیلی کا اعلان کرتی ہے۔ ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے بارش کا پیغام لے کر ہر طرف دوڑنے لگتے ہیں تو یہ سب در اصل خدا کے ایک مطلوب کا اظہار ہوتا ہے ، یہ مطلوب کہ خدا اپنی زمین میں کچھ ہرے بھرے درخت اگانا چاہتا ہے۔ اس وقت جو کسان خدا کے اعلان کو سمجھ لے اور ایک بیج لے کر زمین میں ڈال دے تو اس کے فوراً بعد خدا کا جادو ظاہر ہوتا ہے۔ جہاں خالی زمین تھی وہاں معجزاتی طور پر ایک سر سبز و شاداب کائنات نکل کر کھڑی ہو جاتی ہے جس کے سائے کے نیچے لوگ پناہ لیں ۔ جس کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ جو لوگوں کے لئے رنگت اور خوشبو اور لذت کا ایک عظیم خدا کی دستر خوان بن جائے ۔
دنیا کا معاملہ بھی آج کچھ ایسا ہی ہے۔ موجودہ دنیا کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک حد پر پہنچ کر کسی نئے انقلاب کا انتظار کر رہی ہے۔ خدا کا نام آج لوگوں کے لیے ذاتی کاروبار کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues