منصوبہ تخلیق
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷
عنوان بن چکا ہے ۔ خدا کی دی ہوئی آزادی کو صرف فساد اور بگاڑ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خدا کی پیدا کی ہوئی نعمتیں لوگوں کے لئے لوٹ کا میدان بنی ہوئی ہیں ۔ خدا کی دنیا میں انسان نے خود اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر بٹھا رکھا ہے ۔ ظلم اور فساد اتنا بڑھ چکا ہے کہ انسانی نسل پر دوبارہ وہ الفاظِ صادق آتے ہیں جو حضرت نوح نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بارہ میں کہے تھے: انک ان تذرهم يضلوا عبادك ولا يلدوا الا فاجرا كفارا (نہ ۴) بگاڑ کی یہ انتہا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کا فیصلہ ظاہر ہو۔ وہ وقت آ گیا ہے کہ دوبارہ زمین پر ایک طوفانِ نوح برپا ہو، تاکہ تمام برے لوگ اس میں غرق کردئے جائیں اور تمام اچھے لوگ اس سے بچا کر خدا کی زمین کے وارث بنا دیے جائیں اور پھر وہ ایک ایسی دنیا کی تعمیر کریں جو موجودہ دنیا سے زیادہ بہتر ہوگی اور زیادہ بابرکت۔ مگر طوفانِ نوح سے پہلے اعلانِ نوح کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ خدا کے بندوں میں سے کچھ بندے اٹھیں اور اپنی صحیح ترین اور کامل ترین صورت میں حق کا اعلان کر دیں ۔ خدائی موسمِ آب آخری طور پر آچکا ہے ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کوئی کسان اپنا بیج لے کر زمین میں ڈال دے ۔ جس دن یہ واقعہ ہوگا اسی دن خدا کا معجزاتی کرشمہ بھی ظاہر ہو جائے گا ۔ خدا کی نهر تین اس بندہ کے اوپر آسمان کے دروازے پھاڑ کر ٹوٹ پڑیں گی تاکہ جو کچھ بندے کو کرنا ہے بندہ اسے انجام دیدے۔ اور تاکہ خدا کو جو کچھ کرنا ہے خدا اس کو ظہور میں لے آئے۔
اعلان حق کا مطلب حق کو آخری حد تک مبرہن کر دینا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کل خدائی کی سطح پر کھولا جانے والا ہے اس کو آج بندگی کی سطح پر لوگوں کے لئے کھول دیا جائے۔ اس کے بعد وہ لوگ ایک طرف ہو جاتے ہیں جنہوں نے حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا تھا ۔ اور وہ لوگ دوسری طرف ہو جاتے ہیں جنہوں نے حق کو نہیں پہچانا اور اپنے آپ کو اس کی سمت میں کھڑا نہیں کیا۔ جب یہ عمل پورا ہوتا ہے تو اس کے فوراً بعد خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے ۔ اس وقت لوگ دیکھ لیتے ہیں کہ پہلا گروہ جنت کے زینہ پر کھڑا ہوا تھا اور دوسرا گروہ جہنم کے زینہ پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues