Al-Risala · November 2001 · page 28

توبہ کا کرشمہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸

توبہ کا کرشمہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مگر جو شخص تو بہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے (الفرقان ۴۰) سیئات کا حسنات بن جانا کوئی پُر اسرار واقعہ نہیں، یہ ایک معلوم نفسیاتی حقیقت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک شخص جس کے اندر انسانی جو ہرموجود ہو، اس سے جب برائی کا کوئی فعل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اس کا ضمیر نہایت شدت کے ساتھ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کی روح آخری حد تک تڑپ اٹھتی ہے۔ اس طرح اس کی برائی اس کے لیے بھلائی کا محرک بن جاتی ہے۔ ماضی کی غلطی کو نہ دہرانے کا احساس اس کے مستقبل کو شاندار طور پر درست کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس نفسیاتی معاملہ کی ایک نہایت واضح مثال حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔

۹۳ھ میں عمر بن عبدالعزیز اموی حکومت کی طرف سے مدینہ کے گورنر تھے۔ ان کو دمشق سے خلیفہ الولید کی یہ تحریری ہدایت ملی کہ خُبیب بن عبداللہ بن الزبیر کو پچاس کوڑے مارو اور سخت جاڑے کے موسم میں ان کے سر پر ٹھنڈا پانی بہاؤ اور ان کو مسجد کے دروازہ پر کھڑا کردو۔ عمربن عبدالعزیز نے اس حکم پر عمل کیا۔ اسی دن خُبیب کا انتقال ہوگیا۔ خبیب کی موت کے بعد عمر بن عبدالعزیز کو خوف خدا کا شدید احساس ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے کو غیر مامون سمجھنے لگے۔ ان کا حال یہ ہو گیا کہ اگر ان کو ان کے کسی کار خیر پر آخرت کے انعام کی بشارت دی جاتی تو وہ کہہ اٹھتے کہ کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے جب کہ خبیب میرے راستہ میں ہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ کہتے کہ ایسا تو جب ہو گا جب کہ خبیب میرے راستہ میں حائل نہ ہوں۔ پھر وہ اس عورت کی طرح چیخ پڑتے جس کا بچہ گم ہو گیا ہو۔ جب ان کی تعریف کی جاتی تو وہ کہتے کہ اگر میں حبیب سے بچ گیا تو میں بھلائی پر ہوں۔ اس واقعہ کے بعد وہ آخر عمر تک غم اور خوف میں مبتلا رہے۔ انھوں نے عبادت اور گریہ و زاری کی انتہا کر دی ۔ (البدایہ والنہایہ (۸۷/۹) اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ ان کی طرف سے ایک لغزش تھی۔ مگر اس کے سبب سے ان کو بہت بھلائی ملی۔ یعنی عبادت اور گریہ و زاری اور غم اور خوف اور احسان اور عدل اور صدقہ اور نیکی اور غلاموں کو آزاد کرنا، وغیرہ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues

Printed page