انسان کدھر
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴
انسان کدھر
ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی (1991 - 1944) پارلیمنٹ کے دسویں الیکشن (مئی 1991) کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ ملک کا طوفانی دورہ کرتے ہوئے 21 مئی 1991 کو اپنے مخصوص ہوائی جہاز کے ذریعہ تامل ناڈو پہونچے۔ وہ ہوائی اڈہ مینم پکم (Meenampakkam) پر اترے۔ یہاں وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے اور 30 سے زیادہ کاروں کے قافلہ کے ساتھ سری پرم بودور (Sriperumbudur) کے لیے روانہ ہوئے جہاں انھیں ایک الیکشن میٹنگ کو خطاب کرنا تھا۔ رات کو 10 بجے وہ پنڈال کے اندر عوام کی طرف سے گلدستے وصول کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک 25 سالہ عورت اپنے دونوں ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ لیے ہوئے راجیو گاندھی کی طرف بڑھی۔ راجیو بھی احساس فتح کے ساتھ اس کی طرف بڑھے۔ کیوں کہ ہر جگہ عوامی استقبال نے انھیں یقین دلایا تھا کہ اس الیکشن کے بعد وہ ملک کے وزیر اعظم بننے والے ہیں۔ عورت نے قریب آکر اپنا گلدستہ راجیو گاندھی کی طرف بڑھایا۔ مگر اس عورت کا تعلق خود کشی دسته (suicide squad) سے تھا اور وہ اپنے جسم پر خطر ناک بم باندھے ہوئے تھی۔ راجیو گاندھی نے گلدستہ اپنے ہاتھ میں لیا ہی تھا کہ بم پھٹ گیا۔ راجیو گاندھی پوری طرح اس کی زد میں آگئے ۔ ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ اسی لمحہ ان کی موت واقع ہوگئی۔ بظاہر یہ بم کا دھماکہ تھا، مگر حقیقت وہ موت کا دھماکہ تھا جو ہر انسان کے لیے مقدر ہے۔ اس اعتبار سے یہ صرف راجیو گاندھی کی کہانی نہیں بلکہ ہر انسان کی کہانی ہے ۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہر آدمی کا ہاتھ خوشیوں کے گلدستہ پر ہے۔ مگر اصل حقیقت اس کی امیدوں کے بالکل برعکس ہے ۔ جس چیز کو آدمی گلدستہ سمجھ کر وصول کر رہا ہے وہ اس کے لیے ہلاکت کا بم ہے۔
اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جن کو موت سے پہلے اپنے رب کی معرفت حاصل ہوئی جنہوں نے اپنی زندگی کو رب کائنات کی اطاعت میں گزارا ۔ جن کی موت اس حال میں آئی کہ وہ اپنے پرچہ امتحان کو کامیابی کے ساتھ حل کر چکے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues