Al-Risala · November 2001 · page 35

انذار آخرت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵

انذار آخرت

سرونسٹن چرچل نے ۱۹۵۴ میں جنگ کے خلاف چیتاونی دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج ساری دنیا جہنم کے کنارے پر گھوم رہی ہے:

The world is roaming around the brim of hell.

چرچل کے سامنے تیسری عالمی جنگ کا خطرہ تھا۔ انھوں نے اپنے انتباہ میں " جہنم " کا لفظ مجازی طور پر استعمال کیا تھا۔ مگر ایک باخبر مومن اور داعی کے لیے یہ مجاز نہیں ہے، بلکہ حقیقت ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ پوری دنیا ایک بھڑکتی ہوئی جہنم کے کنارہ کھڑی ہے۔ ہر آن یہ خطرہ ہے کہ کب وہ اس کے اندر گرے۔ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے ، مگر جہنم کا خطرہ اتنا یقینی ہے کہ اس سے اللہ کے متقی بندوں کے سوا کوئی بھی مامون و محفوظ نہیں۔

تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے جو لوگ آگاہ ہیں، وہ اس کو ٹالنے کے لیے رات دن سرگرم عمل ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ جہنم کے شدید تر خطرات سے آگاہ ہیں، ان کو سیکڑوں گنا زیادہ بڑھ کر سرگرم عمل ہونا چاہیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ آدمی کو اگر اس کا احساس ہو جائے تو اس کا دن کا سکون اور رات کی نیند اڑ جائے۔ اس کی نفسیات کے اندر ایک ایسا بھونچال آجائے کہ وہ چاہنے لگے کہ کاش میرا ہر بال ایک زبان ہوتا اور میں اپنی ساری قوت کو استعمال کرکے ساری دنیا کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کر دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ آپ لوگوں کو خدا کا مومن بنانے کے لیے اتنا زیادہ بے قرار رہتے تھے گویا کہ آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ (الشعراء ۳)

بخاری و مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم اپنی بابت فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں کی کمر پکڑ کر تم کو آگ میں جانے سے روک رہا ہوں اور تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ تم آگ میں گرے جا رہے ہو (مشکوة المصابیح ۱/ ۵۳)

جو مسئلہ جتنا زیادہ بڑا ہو اتنا ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے سرگرمی دکھائی جائے۔ مومن کی نظر میں آخرت کا مسئلہ سب سے بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ آخرت کے لیے سب سے زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues

Printed page