ہے حقیقت میرے دیں کی احتساب کا ئنات
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۹
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقیموا الدین میں دراصل انفرادی دین پر قائم ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی وہ دین جس کو ایک شخص ہر جگہ اور ہر صورت حال میں اختیار کر سکتا ہے۔ جو بات یہاں سورۃ الشوریٰ میں جمع کے صیغہ میں کہی گئی ہے وہی بات دوسری جگہ واحد کے صیغہ میں اس طرح آئی ہے : واقم وجهك للدين حنيفا۔ (الروم ۳۰)
اقيموا الدین یا اقم وجهك للدین حنيفا کا مطلب یہ ہے کہ وحی الہی کے ذریعہ جو حقیقت تمہارے اوپر منکشف ہوئی ہے، اس کو اپنے دل و دماغ کا حصہ بنالو۔ تمہاری سوچ اسی میں ڈھل جائے، وہ تمہارے ذہن میں سما جائے، وہی تمہاری ساری تو جہات کا مرکز بنی ہوئی ہو۔ اس معرفت کے بعد یہ ہونا چاہئے کہ تمہاری پوری ہستی خداوند عالم کے آگے جھک جائے ۔ تم اسی کے عبادت گزار بن جاؤ۔ تمہارا وجود اس کے ذکر و تسبیح میں سرشار ہو جائے ۔ خدا ئے واحد ہی تمہارے خوف و محبت کے تمام جذبات کا مرکز بن جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ آدمی کا یہ تعلق اتنا زیادہ گہرا ہو جائے کہ اس کے اخلاق وعادات اسی میں ڈھلنے لگیں۔ اس کی بولی میں خدا کا نور شامل ہو۔ اس کا عملی سلوک عبدیت کے رنگ میں رنگ جائے۔ لوگوں کے درمیان وہ ایک ایسے انسان کے روپ میں رہنے لگے جس میں خدا ترسی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس سمایا ہوا ہو۔
اس کی زندگی دو عملی سے خالی ہو۔ اس کا کردار اعلیٰ اصولوں سے متعین ہوتا ہو نہ کہ محض مصلحت اور مفاد کے تحت ۔ وہ لوگوں کے ساتھ عدل کا برتاؤ کرے ۔ اس کا دل کینہ اور حسد اور انتقام سے پوری طرح خالی ہو۔ وہ ہر حال میں سچ بولے۔ خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ لوگوں کے درمیان ایک ایسے انسان کی طرح رہے جو جہنم سے ڈرتا ہو اور جنت میں داخلہ کا حریص ہو۔
وہ اعتراف کرنے والا ہو نہ کہ سرکشی کرنے والا۔ اس کا سینہ تواضع سے بھرا ہوا ہو نہ کہ سرکشی سے۔ اس کے دل میں لوگوں کے لئے خیر خواہی ہو نہ کہ بدخواہی۔ وہ امانت پر قائم رہنے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues