Al-Risala · February 2001 · page 10

ہے حقیقت میرے دیں کی احتساب کا ئنات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۰

والا ہو اور خیانت سے پاک ہو۔ وہ عیب جوئی، الزام تراشی سے پاک ہو اور ہمیشہ وہ بات کہے جو ٹھیک ٹھیک حق وانصاف کے مطابق ہو۔

اس کی معرفتِ حق اس کو مادیت سے اوپر اٹھادے اور اس کو روحانیت کی بلند تر دنیا میں جینے والا بنا دے۔ اس کو یاد آئے تو خدا کی یاد آئے۔ اس کو شوق ہو تو خدا کے آغوشِ رحمت کو پانے کا شوق ہو۔ اس کو حرص ہو تو جنت کی حرص ہو۔ اس کو تعلق ہو تو ان بندوں سے تعلق ہو جو اس کے لیے خدا کی راہ میں مددگار بننے والے ہوں۔

اس کی نظر میں اتنی گہرائی آ جائے کہ وہ ظاہر میں باطن کو دیکھنے لگے۔ تخلیق کے مناظر میں وہ خالق کا مشاہدہ کرنے لگے۔ دنیا کی ہر چیز اس کے لئے خدا کی صفاتِ کمال کا تعارف بن جائے۔ اس کی حق شناسی اتنی بڑھے کہ ساری پھیلی ہوئی کائنات اس کے لئے رزقِ ربانی کے حصول کا دستر خوان بنی ہوئی ہو۔ ہر چیز میں اس کو اضافہ ایمان کی خوراک ملنے لگے۔ خلاصہ یہ کہ اقیموالدین یا اقم وجهك للدین حنیفا سے مراد دین کو زمین پر قائم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو خود اپنے آپ پر قائم کرنا ہے۔ اس سے مراد احتساب خویش ہے نہ کہ احتساب غیر۔ اس سے مراد خود اپنے آپ کو خدا کے حکم کے تابع کرنا ہے نہ کہ دوسروں کو خدا کے تابع بنانے کے نام پر ان سے جنگ چھیڑنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کی آنکھیں اللہ کی یاد سے آنسو بہانے لگیں نہ کہ وہ دوسروں کے اوپر تلوار چلا کر ان کا خون بہائیں۔ اقیموالدین کا مطلب اپنی دنیا کو معرفتِ الہی سے آباد کرنا ہے نہ کہ خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر دنیا کو تشدد اور نفرت کا جنگل بنانا۔ اقیموالدین کا مطلب اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے نہ کہ آدمی اطاعت رب کا نظام قائم کرنے کے نام پر ساری دنیا کو نفرت اور فساد سے بھر دے۔ مذکورہ قرآنی آیت میں اقامت دین سے مراد پیروی دین ہے نہ کہ نفاذِ دین۔ اس کا نشانہ احتساب خویش ہے نہ کہ احتساب غیر۔ یہ فکری اور اخلاقی دنیا میں کی جانے والی ایک جد و جہد ہے نہ کہ سیاست اور حکومت کے دائرہ میں برپا کیا جانے والا خارجی ہنگامہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page