Al-Risala · November 2001 · page 37

کہاں سے کہاں

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷

کہاں سے کہاں

مسٹر ہیم وتی نندن بہوگنا ہندوستان کے ایک مشہور سیاسی لیڈر تھے ۔ وہ امریکہ میں کلیو لینڈ (Cleveland) کے اسپتال میں زیر علاج تھے ۔ 17 مارچ ۱۹۸۹ کو اسپتال ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر 70 سال تھی ۔

ٹائمْس آف انڈیا (۸ مارچ ۱۹۸۹ ، صفحہ ۱۳) میں ان کے حالات درج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسٹر بہوگنا نے اپنی زندگی میں غیر معمولی سیاسی شہرت حاصل کی، اور آخر میں تقریباً تنہائی کی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ ان کے تمام دوست ایک کے بعد ایک انھیں چھوڑتے چلے گیے ۔ ان کے سیاسی شریک کار ان سے جدا ہو گیے ۔ اور ، ۴۵ سالہ سیاسی زندگی کے آخر میں، انھوں نے اپنے آپ کو تنہائی کے بیابان میں پایا :

One by one, his friends left him, his political allies deserted him and, at the end of a political career spanning 45 years, he found himself in near wilderness. (p. 13)

تبصرہ نگار نے یہاں مسٹر بہوگنا کا جو انجام بتایا ہے، وہی انجام وسیع تر پیمانہ پر ہر شخص کا ہونے والا ہے ۔ اس دنیا میں ہر آدمی شاندار " ۴۵ سالہ " زندگی گزار رہا ہے، صرف اس لیے تاکہ اچانک اس کی شاندار زندگی کا خاتمہ ہو جائے اور وہ موت کے دروازہ سے گزار کر خدا کی عدالت میں پہنچا دیا جائے ۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو " ۴۵ سال " ملتے ہیں ۔ یہ مدت اس لیے نہیں ہے کہ وہ اپنا شاندار سیاسی کیریر بنائے۔ وہ صرف اس لیے ہے کہ آدمی آنے والے مستقبل کی ابتدائی تیاری کرے ۔ جو لوگ اپنے " ۴۵ سال " کو تیاری کا ابتدائی وقفہ سمجھیں اور اس کے لیے اسے استعمال کریں وہ آنے والے مستقل مرحلہ میں کامیاب رہیں گے ۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے " ۴۵ سال " ہی کو سب کچھ سمجھ لیں ، ان کا حال اس انسان کا سا ہوگا جو بیج ڈالنے سے پہلے پھل حاصل کرنا چاہے۔ ایسے شخص کے لیے آنے والی دنیا میں ابدی ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں ۔ کیسا عجیب ہے انسان کا شاندار حال ، اور کیسا غیر شاندار ہے اس کا آخری مستقبل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues

Printed page