فیض بقدرِ استعداد
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸
فیض بقدرِ استعداد
حدیث میں ہے کہ تمہارے دین کی سب سے بہتر چیز تفقہ ہے (خیر دینکم الفقہ) رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی : اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّاوِيل (خدایا، اس کو دین کی فہم عطا فرما اور اس کو تاویل کلام کی صلاحیت دے)، بخاری و مسلم میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :
عن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ من الهدى والعلم كمثل غيث اصاب ارضاً ، فكانت منها طائفة طيبة قبلت الماء فانبتت الكلأ والعشب الكثير ... وكان منها اجادب امسكت الماء فنفع الله بها الناس ... فشربوا منها وسقوا وزرعوا .... واصاب طائفة منها اخرى ، انما هي قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلاً ... فذالك مثل من فقه في دين الله ونفعه ما بعثني الله به فعلم وعلم ، ومثل من لم يرفع بذلك رأساً ، ولم يقبل هدى الله الذي ارسلت به ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایک بارش کی ہے جو زمین پر برسے ۔ اس کا ایک حصہ زرخیز تھا۔ اس نے پانی کو قبول کیا اور خوب گھاس اور سبزہ اُگایا ۔ اور اس زمین کا ایک حصہ بنجر زمین ہو ۔ اس نے پانی کو روکا تو اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا ۔ اور زمین کا ایک اور حصہ ڈھلوان تھا۔ وہ نہ پانی کو روکتا تھا اور نہ سبزہ اگاتا تھا ۔ پس یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین میں سمجھ حاصل کی ، اس سے اس کو نفع ہوا۔ اس نے سیکھا اور سکھایا ۔ اور (دوسری) مثال اس شخص کی ہے جس کو اس میں سے کوئی حصہ نہ ملا اور اس نے اس ہدایت کو قبول نہ کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ۔
زمین کو بارش کا فائدہ اس کی استعداد کے بقدر ملتا ہے ، یہی معاملہ انسان کا بھی ہے ۔ خدا کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے عام ہے ۔ مگر جو شخص جتنی استعداد کا ثبوت دے گا اتنا ہی فائدہ اس کو حاصل ہوگا ۔ اور سب سے بڑا فائدہ جو ہدایتِ الہیٰ سے کسی کو ملتا ہے وہ معرفت ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues