قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵
امن اور اسلام Islam: the religion of peace امریکہ یونیورسٹی (واشنگٹن) میں ایک روزہ سمپوزیم فروری ۱۹۹۸ء میں امرین یونیورسٹی (واشنگٹن) میں ایک سہ روزہ سمپوزیئم فروری ۱۹۹۸ء میں ہوا۔ اس کے اجلاس ۶ فروری میں راقم الحروف نے اسلام اور امن پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا: اسلام ٹیررزم اسی طرح ایک متضاد اصطلاح ہے جس طرح پر امن دہشت گردی (pacificistic terrorism) - حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات امن کے اصول پر مبنی ہیں، خواہ براہ راست طور پریا بالواسطہ طور پر۔
قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم
خود لفظ اسلام میں امن کا مفہوم شامل ہے۔ اسلام کا روٹ ورڈ سلم ہے۔ سلم کے معنی امن کے ہوتے ہیں۔ اس لئے اسلام کا مطلب ہے، امن کا مذہب۔ حدیث میں آیا ہے کہ: السلام من الاسلام (البخاری، کتاب الایمان) یعنی سلامتی اسلام کا جز ہے۔ اسی طرح حدیث میں ہے: المسلم من سلم الناس من لسانه و يده (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگ امن میں تسلیم عباس من شاہ کے رشتہ دار ہیں، C:\Inpage\imr-inp\Dec-2001
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues