قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
قرآن میں اللہ کے جو نام (صفت) بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک السلام (الحشر ۲۳) ہے۔ یعنی امن و سلامتی۔ گویا اللہ کی ذات خود صفت امن کا مظہر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: اِن الله هو السلام (البخاری، کتاب الاذان) یعنی اللہ خود سلامتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی ہدایت کو قرآن میں سبل السلام (المائدہ ۱۶) کہا گیا ہے۔ یعنی امن کے راستے ۔ اسلام کے مطابق، جنت انسان کے قیام کی معیاری جگہ ہے، اور قرآن میں جنت کو دار السلام (یونس ۲۵) کہا گیا ہے۔ یعنی امن کا گھر۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کا قول ایک دوسرے کے لئے سلامتی سلامتی (الواقعہ ۲۶) ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اہل جنت کا اجتماعی کلچر پیس کلچر ہوگا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : والصلح خير (النساء ۱۲۸)۔ یعنی صلح کی روش اپنے نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اللہ نے مصالحانہ طریق عمل پر وہ کامیابی مقدر کر دی ہے جو اس نے غیر مصالحانہ یا متشددانہ طریقہ عمل پر مقدر نہیں کی۔ پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر اجتماعی معاملات میں آپ کی جنرل پالیسی کو اس طرح بیان کرتی ہیں: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما (البخاری، کتاب المناقب) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب پرامن عمل(peaceful activism) دستیاب ہو تو پر تشدد ایکٹوزم (violent activism) کو اختیار نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ پرامن عمل کی حیثیت مقابلہ آسان انتخاب (easier option) کی ہے اور پرتشدد عمل کی حیثیت مقابلہ مشکل انتخاب (harder option) کی۔
مثلاً کسی تحریک کے پہلے ہی مرحلہ میں اسٹیٹس کو کو بدلنے کی کوشش کرنا مشکل انتخاب ہے اور اسٹیٹس کو کو بدلے بغیر حاصل شدہ دائرہ میں اپنا عمل جاری کرنا آسان انتخاب ۔ نزاع کے موقع پر لڑ جانا مشکل انتخاب ہے اور نزاع کے موقع پر صلح کر لینا آسان انتخاب۔ حریف کے مقابلہ میں متشددانہ طریق کار کو اپنانا مشکل انتخاب ہے اور حریف کے مقابلہ میں پرامن طریق کار کو اپنانا آسان انتخاب۔ جارحیت
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues