نئی دہلی، ۳ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۵۱
یہ جذبہ آدمی سے اعتراف کا مادہ چھین لیتا ہے۔ ایسا آدمی خود اپنے ذہنی خول میں جینے لگتا ہے۔ وہ اعتراف کی صفت سے محروم ہو کر اس قابل نہیں رہتا کہ وہ اپنے سے باہر کسی حقیقت کو پہچان سکے۔ ایسا آدمی اپنی سوچ کے اعتبار سے محدود بن جاتا ہے۔ اور محدود انسان کبھی صاحب بصیرت انسان نہیں بن سکتا۔
صاحب بصیرت انسان دوسرے لفظوں میں صاحب معرفت انسان ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر ظاہر ہیں ہوتے ہیں تو وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر اپنے آپ میں سوچنے والے ہوتے ہیں تو اس کی سوچ اپنے آپ سے بالکل رخ کار جی حقائق کا احاطہ کئے ہوئے ہوتی ہے۔ صاحب بصیرت انسان بننا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ صفت ہمیشہ قربانی کی قیمت پر کسی انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ جسم کی قربانی نہیں بلکہ فکر کی قربانی۔ اور فکری قربانی کی اس فہرست میں سب سے بڑی قربانی انا (ego) کی قربانی ہے۔ صاحب بصیرت انسان بننے کے لئے علم کی حیثیت اگر فکری بنیاد (intellectual base) کی ہے تو اس معاملہ میں قربانی کی حیثیت فکری تطہیر (intellectual purification) کی ۔ ان دو طرفہ شرطوں کو پورا کئے بغیر کوئی شخص صاحب بصیرت انسان نہیں بن سکتا۔
وزڈم اور وژن کا فرق ایک تاریخی مثال سے مزید واضح ہوتا ہے۔ یہ حدیبیہ کے واقعہ کی مثال ہے جو پیغمبر اسلام کے زمانہ میں پیش آیا۔ حدیبیہ کے موقع پر فریق ثانی جنگ کرنے پر تلا ہوا تھا۔ ایسی حالت میں اعراض کا طریقہ اختیار کر کے جنگ سے بچنا وزڈم تھا۔ کیوں کہ جنگی تیاری نہ ہونے کی بنا پر اس وقت اہل اسلام کو یک طرفہ طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس کے بعد فریق ثانی کی شرطوں کو مان کر دس سال کے لئے امن کا معاہدہ کرنا وژن کی مثال ہے۔ کیوں کہ اس معاہدہ امن کے اندر مستقبل کے اعتبار سے ’’فتح مبین‘‘ کا راز چھپا ہوا تھا۔
نئی دہلی، ۳ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues