اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۵۰
بصرہ عیب الدنیا و دائها و دواها و اخرجه منها سالماً إلى دار السلام (مشکوۃ المصابیح ۳/ ۱۲۳۵)۔
یعنی جب بھی کوئی بندہ دنیا کے معاملہ میں زہد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت اگا دیتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت کا کلام جاری کر دیتا ہے اور اس کو دنیا کا عیب اور اس کا مرض اور علاج دکھا دیتا ہے اور اس کو دنیا محفوظ طور پر نکال کر سلامتی کے گھر تک پہنچا دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صاحب بصیرت ہونے کا راز زہد ہے۔ زہد کے معنی عربی زبان میں بے رغبتی (indifference) ہے۔ یہ لفظ رغبت کی ضد کا مفہوم دیتا ہے۔ مثلاً (الزاهد ) الراغب عن الدنیا حباً للآخرۃ یعنی زاہد وہ ہے جو آخرت کی محبت میں دنیا سے بے رغبت ہو جائے۔ دنیا سے بے رغبتی سادہ طور پر رہبانیت کا نام نہیں۔ یہ دراصل اپنی سوچ کو مادی یا ظاہری چیزوں سے ہٹا کر زیادہ گہری حقیقتوں کی طرف لے جانا ہے۔ یہ اپنی سوچ میں تر کیز (concentration) لانے کی تربیت ہے اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو صاحب بصیرت بناتی ہے۔
صاحب بصیرت انسان وہ ہے جو چیزوں کو کسی آمیزش کے بغیر ویساہی دیکھ سکے جیسا کہ وہ ہیں، جس کے اندر بے آمیز طور پر سوچنے (as it is thinking) کی صلاحیت ہو، جو ظواہر سے گزر کر چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ کوئی آدمی صاحب بصیرت اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو مادی دلچسپیوں سے اوپر اٹھا چکا ہو۔ جب کہ اس کے اندر یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہو۔ جب وہ اپنے آپ کو اس قابل بنا لے کہ حسد اور بغض اور تعصب اور نفرت جیسے جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ جب اس کا حال یہ ہو جائے کہ وہ منفی صورت حال میں بھی اپنے اندر مثبت ذہن کو برقرار رکھے۔
صاحب بصیرت انسان بننے کے لئے مذکورہ صفتوں کے علاوہ ایک اور ضروری صفت وہ ہے جس کو تواضع (modesty) کہا جاتا ہے۔ فطری طور پر ہر انسان کے اندر گھمنڈ (arrogance) کا جذبہ ہوتا ہے۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر خود پسند اور انا پسند (egoist) ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues