Al-Risala · December 2001 · page 53

نئی دہلی، ۳ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۵۳

اسی طرح ہندوستان میں بابری مسجد یا فرقہ وارانہ فساد جیسے معاملات میں تمام علماء براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ٹکراؤ کے طریقہ کو مسئلہ کا حل بتاتے رہے۔ حتیٰ کہ وہ’’ ”ضرر رسانی‘‘ کے فلسفہ کی حمایت کرتے ہوئے پرجوش طور پر اس قسم کے اشعار پڑھتے تھے :

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری مگر اب یہ تمام علماء عملاً محاربت کے اس نظریہ کو ترک کرکے پُر امن انداز میں کلام کر رہے ہیں، وغیرہ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، اس طرح کے معاملات میں یہ علماء پہلے جہاد و قتال کی اصطلاحوں میں بولتے تھے۔ مگر اس کے بعد تمام علماء کا حال یہ ہوا کہ تلخ نتائج کی مجبورانہ منطق تو ان کو سبق سکھانے میں کامیاب ہوگئی ، مگر قرآن کی تعلیمات سے اصولی رہنمائی حاصل کرنے میں وہ سراسر نا کام رہے۔ اس واقعہ پر غور کیجئے تو ان علماء کے بارہ میں دو میں سے کوئی ایک رائے قائم کرنی پڑے گی۔ یا تو یہ کہا جائے کہ یہ لوگ دو عملی کا شکار ہیں یا یہ مانا جائے کہ موجودہ زمانہ کی نسبت سے وہ قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ میں ذاتی طور پر اس کو انھوں سمجھتا ہوں کہ علماء کے اس معاملہ کو دوسرے خانہ میں رکھا جائے۔

مزید غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن فہمی کی فنی شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط ضروری ہے ، اور ہمارے علماء فنی شرطوں کے ماہر ہونے کے باوجود اس مزید شرط پر پورے نہیں اترے۔ اس لئے وہ موجودہ حالت میں قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

میرے نزدیک یہ مزید شرط ہے ـــــــــ چیزوں کو جیسا ہے ویسا (as it is) دیکھنا ، محبت اور نفرت سے بلند ہوکر رائے قائم کرنا۔ چنانچہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کے اندر نفرت کی نفسیات ہو تو وہ منصفانہ طرزِ فکر سے محروم ہو جائے گا (المائدہ ۸) ۔ ان علماء کی زندگیوں کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ حضرات اس مزید شرط پر پورے نہیں اترے۔ مثال کے طور پر اس دور کے تقریباً تمام علماء کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مغرب کی استعماری قوموں سے شدید نفرت میں مبتلا تھے۔ حتیٰ کہ ہر عالم کے حالات زندگی میں تعریف کے طور پر یہ لکھا جاتا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page