Al-Risala · December 2001 · page 54

دعا گو وحید الدین

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۵۴

"حضرت کو ان قوموں سے شدید نفرت تھی۔ "

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کسی کے خلاف آپ نفرت میں مبتلا ہو جائیں تو اس کے بارے میں آپ درست رائے قائم نہیں کر سکتے۔ بظاہر آپ قرآن کے عالم ہوں گے مگر نفرت کا جذبہ آپ کو اس طرح متاثر کر دے گا کہ قرآن وحدیث کی کھلی تعلیمات کے باوجود آپ اس کے بارہ میں درست رائے قائم کرنے میں نا کام رہیں گے۔ فنی علوم کی مہارت کے باوجود آپ کی رائے متعصبانہ رائے بن کر رہ جائے گی۔

درست رائے قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ چیزوں کو ویسا ہی دیکھیں جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اگر آپ کی آنکھ پر نفرت کی عینک لگی ہوئی ہو تو فنی علوم میں مہارت کے باوجود آپ یقینی طور پر صحیح رائے قائم کرنے میں ناکام رہیں گے۔

جن علوم وفنون کو قرآن فہمی کے لئے لازمی شرط بتایا جاتا ہے وہ بجائے خود درست ہیں۔ مگر قرآن فہمی کے لئے یہی کافی نہیں۔ انسان کوئی مشینی کمپیوٹر نہیں۔ انسان اکثر مختلف قسم کے منفی جذبات (negative sentiments) کا شکار ہو جاتا ہے۔ منفی جذبات اس کے ذہن پر غلبہ حاصل کر کے اس کو ایک قسم کی متاثر سوچ (conditioned thinking) میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یہ متاثر سوچ اکثر حالات میں درست رائے قائم کرنے میں فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس لئے صرف فنی علوم میں مہارت اس بات کے لئے کافی نہیں کہ آدمی قرآن کی صحیح تفسیر کرنے میں کامیاب رہے۔ ضروری ہے کہ وہ اسی کے ساتھ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو۔ وہ حدیث کے الفاظ میں یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسا کہ وہ ہیں (اللھم ارنا الاشياء كما ھي)۔

دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page