The greatest concern of Islam is Allah.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱
بشمول حضرت مسیح غیر تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔
خدا کے دین کی تاریخ میں یہ تبدیلی اہلِ ایمان کے حق میں ایک عظیم نعمت ہے۔ پچھلے زمانوں میں کوئی شخص صرف انفرادی ماحول میں رہنے پر مجبور تھا۔ اب وہ دور آگیا ہے کہ خدا کا دین انسانی تاریخ میں ایک عمومی فکر کے طور پر شامل ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال مختلف پہلوؤں سے اہل ایمان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، ایک ایسی نعمت جو پچھلی امتوں کے زمانہ میں حاصل نہ ہو سکی تھی۔
۴ اللہ کے نزدیک اسلام کو اس کے پسندیدہ دین کی حیثیت حاصل ہوگئی، اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے دین سے اللہ راضی نہ تھا اور اب وہ اسلام سے راضی ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پیغمبر کا دین اللہ کا پسندیدہ دین ہی تھا۔ اسلام اور دوسرے دینوں میں جو فرق ہوا ہے وہ نفس دین کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ان کی تاریخی حیثیت کے اعتبار سے ہے۔
اصل یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کو جو دین ملا وہ بعد کے زمانہ میں اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مختلف قسم کے بگاڑ کے نتیجہ میں وہ منزّل دین نہ رہا بلکہ وہ محرّف دین بن گیا۔ یہی حادثہ پچھلے تمام دینوں کے ساتھ پیش آیا۔ بعد کی نسلیں ان دینوں کی حفاظت نہ کر سکیں اس لئے انھوں نے اپنی تاریخی اعتبار یت (historical credibility) کھودی۔
مگر اسلام کا معاملہ استثنائی طور پر مختلف ہے۔ اسلام کے ساتھ اللہ کی خصوصی مدد سے ایسے اسباب اکٹھا ہوئے کہ اس کا متن (text) اور اس کا ابتدائی ریکارڈ (record) عین اپنی اصل حالت میں باقی رہا۔ کوئی شخص خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ اپنی گمراہی کا سامان کر سکتا ہے، مگر جہاں تک خود دین اسلام کا سوال ہے وہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کی صورت میں کامل اور غیر مشتبہ طور پر آج بھی موجود ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اب وہ واحد دین ہے جس کو خدا کے مستند دین کی حیثیت
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues