اسلام اکیسویں صدی میں
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳
اسلام اکیسویں صدی میں
ٹی۔ ڈبلیو آرنلڈ کی کتاب دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) انیسویں صدی کے آخر میں چھپی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک سے زیادہ بار اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اسلام جس تیزی سے مختلف ملکوں میں پھیل رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں وہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ دنیا کی بیشتر قوموں کی اکثریت دین اسلام میں داخل ہو جائے گی۔
مگر سو سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود، یہ واقعہ پیش نہیں آیا، جب کہ بظاہر حالات ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ٦١٠ء میں پہلی وحی اتری۔ اس وقت اسلام ایک فی دنیا کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد وہ نہایت تیزی سے چاروں طرف پھیلنے لگا۔ اسلام کی تو سیع (expansion) کو ایک غیر مسلم مورخ نے تمام معجزوں سے بڑا معجزہ (miraculous of all miracles) قرار دیا ہے۔ اسلام کی اس تیز رفتار توسیع کا عمل اس کے آغاز کے بعد مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ملک کے ملک اور قوموں کی قومیں اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئیں۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر یہ عمل تقریباً رک جاتا ہے۔ پوری بیسویں صدی گزر گئی اور کسی بھی قوم یا ملک میں یہ واقعہ پیش نہیں آیا کہ تمام کے تمام لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں، جیسا کہ پچھلی صدیوں میں ہوا تھا۔ اس ”حادثہ کا سبب کیا ہے۔ اس کے واحد ذمہ دار بیسویں صدی میں پیدا ہونے والے وہ انقلابی مفکرین ہیں جنہوں نے اسلام کی سیاسی تفسیر کر کے مسلمانوں کو متشددانہ جہاد میں مشغول کر دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے دور میں ہوا جب کہ جدید میڈیا کا ظہور ہو چکا تھا۔ چنانچہ نئے دور کے مسلح مجاہدین کی گرم خبریں (hot news) جدید میڈیا کے ذریعہ ساری دنیا میں پھیلنے لگیں۔ یہاں تک اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ بن گئی کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues