Al-Risala · February 2001 · page 44

ایک جائزہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴

نفرت اور تشدد کا مذہب ہے۔ اس کے بعد لوگ اسلام سے متوحش ہو گئے، جب کہ اس سے پہلے وہ پر شوق طور پر اس کی طرف راغب ہو رہے تھے۔

ایک جائزہ

اس حادثہ کی تاریخ مزید پیچھے تک جاتی ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں قتال کے واقعات ہوئے۔ اولاً عرب کے سرداروں سے اور پھر ایرانی سلطنت اور رومی سلطنت سے۔ اس جنگ کو قرآن میں قتال برائے استیصال فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ایک وقتی آپریشن (operation) تھا۔ اس کے ذریعہ یہ مطلوب تھا کہ مذہبی جبر (religious persecution) کا دور دنیا سے ختم ہو جائے اور اہل توحید کو یہ موقع ملے کہ وہ مذہبی آزادی کی فضا میں اپنی دینی اور دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔

یہ گویا ایک خدائی آپریشن تھا۔ اس کا آغاز ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں تقریباً اس کی تکمیل ہو گئی۔ اب وہ وقت آگیا کہ اہل اسلام اس اصول کو اختیار کر لیں جس کو جاپانیوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد عمل معکوس (reverse course) کا نام دیا تھا۔ یعنی پر تشدد عمل کا طریقہ چھوڑ کر پر امن عمل کا طریقہ اختیار کرنا۔

ابتدائی دور کے اہل اسلام میں بعض افراد ایسے ملتے ہیں جن کو اس حقیقت کا واضح شعور حاصل تھا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ اب مذہبی جبر ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح وہ رکاوٹ دور ہو چکی ہے جس کو دور کرنے کے لئے قتال کیا گیا تھا۔ اس لئے اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ قتال کو چھوڑ کر اسلام کے ایجابی عمل میں مشغول ہو جائیں۔ یعنی دعوت واصلاح اور تعلیم و تربیت کا میدان۔ اس سلسلہ میں پہلا قابل حوالہ قول وہ ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد عبد اللہ بن زبیر کی جماعت اور بنو امیہ کے درمیان جو مسلح سیاسی ٹکراؤ ہوا، اس میں حضرت عبد اللہ بن عمر شریک نہ تھے۔ اس وقت کچھ لوگ آپ کے پاس

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page