کائنات کا ابتدائی دھماکہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
جانا۔ اس قسم کا دھماکہ ہمیشہ تخریبی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرا دھماکہ وہ ہے جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جائے۔ مثلاً پہاڑ کے درمیان سے سرنگ نکالنے کے لئے منصوبہ بند طور پر چٹانوں میں دھماکہ کرنا۔ اس دوسری قسم کا دھماکہ ہمیشہ مفید اور تعمیری نتیجہ پیدا کرتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، کائنات کے آغاز میں، سائنس کی تحقیق کے مطابق، بگ بینگ (big bang) کی صورت میں جو دھماکہ ہوا، اس سے نہایت مفید اور بامعنیٰ نتائج پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دھماکہ یقینی طور پر ایک منصوبہ بند دھماکہ تھا۔ ایک منصوبہ ساز ہستی نے اپنے متعین منصوبہ کے تحت اپنے نقشہ کے مطابق، بالقصد یہ دھماکہ کیا۔ چنانچہ اس سے عین وہی بامعنیٰ نتائج ظاہر ہوئے جو منصوبہ کے مطابق اس سے مطلوب تھے۔
اس جدید تشریح کے مطابق، مذکورہ آیت کے یہ الفاظ کہ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا (أو لَمْ يَرَ الذين كفروا) نہایت با معنیٰ ہو جاتے ہیں۔ کائنات کا یہ ثابت شدہ آغاز خالص علم انسانی کی سطح پر اس حقیقت کو ثابت کر رہا ہے کہ اس کا ئنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے انتہائی بامعنیٰ منصوبہ کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔ اس حقیقت کے ثابت ہونے کے بعد یہ بات اپنے آپ ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان اور کائنات کی تخلیق بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: ربنا ما خلقت هذا باطلاً (آل عمران (۱۹۱) ۔ اس کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ کائنات کی معنویت کا انکار کریں ان کے لئے اپنے اس انکار کی کوئی بھی معقول وجہ موجود نہیں۔
ربانی تعقل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سائنس کے تمام مضامین قرآن میں موجود ہیں، یا یہ کہ ساری کی ساری سائنس خود قرآن سے اخذ کی گئی ہے۔ اس قسم کی باتیں اسلام اور سائنس دونوں سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی بات اصلاً قرآن کی تفسیر نہیں ہے بلکہ وہ قرآن کے حوالہ سے اپنے قومی فخر کو ثابت کرنے کی ایک بے فائدہ کوشش ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ ربانی تعقل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے وہ بیانات جن کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات کے ذریعہ نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو تفصیلی انداز میں بیان کرنا۔ یہ وہی چیز ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ: لا تنقضی عجائبہ۔ یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues