Al-Risala · April 2002 · page

کائنات کا ابتدائی دھماکہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں مستقبل کے بارے میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے ان میں سے ایک یقینی طور پر یہ بھی ہے کہ بعد کے زمانہ میں دریافت ہونے والے سائنسی حقائق قرآن کی معنویت کو مزید نمایاں کریں گے۔ اس طرح قرآن کے کمالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ زوجین کی مثال قرآن کی سورہ نمبر ۵۱ میں ارشاد ہوا ہے:۔ ومن كل شئ خلقنا زوجين لعلكم تذكرون (الذاریات ۴۹) یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑا بنایا تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ قرآن کی اس آیت میں موجودہ دنیا کے ایک ظاہر ہ کا ذکر کر کے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پر سوچے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اس ظاہر ہ کی طرف قرآن میں زوجین کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں زوجین کی تفسیر پچھلے مفسرین نے مختلف انداز سے کی ہے۔ ان تفسیروں میں بہر حال نصیحت کا سامان ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان کا اضافہ کرتے ہوئے اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے نیا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ آیت، قرآن کے الفاظ میں، ایمان کے ساتھ ایمان میں اضافہ (الفتح ۴) کا سبب بن جاتی ہے۔

جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زوجین کا اصول جو انسانوں میں ہے وہی دنیا کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز اپنے زوج کے بغیر نامکمل ہے، وہ اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کے زوج کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے— مادی ایٹم میں منفی ذرہ (negative particle) کے ساتھ مثبت ذرہ (positive particle) کا ہونا۔ اسی طرح نباتات میں بھی زوجین یا نر اور مادہ کا اصول ہے۔ ان میں سے ایک کو میل فلاور (staminate flower) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے کو فیمیل فلاور (pistillate flower)۔ اسی طرح حیوانات میں بھی جوڑے ہیں۔ ان میں سے نر کو ہی میل (he-male) اور مادہ کو شی میل(she-male) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی جوڑے ہیں جن کو ہم عورت اور مرد کے نام سے جانتے ہیں۔

زوجین کے اس عمومی اصول کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عموم میں ایک استثناء ہے، اور وہ ہماری انسانی دنیا ہے۔ انسانی دنیا اپنے سارے ہنگاموں کے باوجود ایک نامکمل دنیا ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page