Al-Risala · April 2002 · page

انسانی مصائب کیوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

دی جائے تو وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے گا۔ اسی اندیشہ کا اظہار فرشتوں نے انسان کی پیدائش کے وقت کیا تھا۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ (با اقتدار) بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (البقرہ ۳۰)

انسان کو آزادی دینے کے اسی منصوبہ کا وہ نتیجہ ہے جس کو فلاسفہ بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد ۴) یہی بات قرآن میں ایک اور انداز سے اس طرح بیان ہوئی ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوروں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (البقرہ ۱۵۵-۱۵۶) موجودہ دنیا میں جو مسائل یا مصائب نظر آتے ہیں وہ در حقیقت اسی تخلیقی نظام کا فطری نتیجہ ہیں۔ انسانی زندگی میں جب حقیقی معنوں میں آزادی کا ماحول قائم کیا جائے تو لازماً ایسا ہوگا کہ کبھی کوئی انسان آزادی کا غلط استعمال کر کے مسئلہ پیدا کرے گا۔ کبھی کوئی انسان اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا اور اسباب وعلل کے نظام کی بنا پر اس کے انجام سے دوچار ہوگا۔ کبھی مسابقت اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں آگے بڑھ جانے کی دوڑ کے نتیجہ میں کوئی کھوئے گا اور کوئی پانے کا تجربہ کرے گا۔ اس قسم کے واقعات کا پیش آنا ضروری ہے۔ ان کے بغیر آزادی کا حقیقی ماحول قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ تاہم خالق کی رحمت ہر ایک کے ساتھ ہے۔ آزادی کے اس ماحول کے نتیجہ میں جو لوگ بظاہر کامیاب رہیں وہ زیادہ سخت انداز میں جانچے جائیں گے اور جو لوگ بظاہر نقصان اٹھائیں ان کے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیا جائے گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلے گروہ کے مقابلہ میں دوسرا گروہ زیادہ خوش قسمت نظر آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page