Al-Risala · April 2002 · page

انسانی مصائب کیوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

انسانی مصائب کیوں

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ انسان ہمیشہ مختلف قسم کی مصیبتوں (sufferings) سے دوچار رہتا ہے۔ کبھی کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے ناقص الاعضا ء پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کسی حادثہ کی بنا پر کوئی شخص اپاہج ہو جاتا ہے۔ کبھی اور کسی قسم کی آفت میں مبتلا ہو کر وہ دکھ کا تجربہ کرتا ہے، ایسا کیوں ہے۔ مذہبی عقیدہ کے مطابق، خدا اگر تمام خوبیوں کا مالک ہے، اور وہ رحیم و کریم ہے تو وہ اپنے بندوں کو اس قسم کی مصیبتوں میں کیوں مبتلا کرتا ہے۔ معیاری کائنات میں یہ غیر معیاری واقعات کیوں۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کو سمجھا جائے۔ مصائب کا معاملہ انسان کی تخلیق کی مجموعی اسکیم کا ایک جزء ہے، اور جب تک مجموعی اسکیم کو نہ سمجھا جائے، جزء کے معاملہ کو سمجھنا ممکن نہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد جانچ (test) ہے۔ یعنی مختلف حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا کہ کون شخص اچھا ہے اور کون شخص برا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے موت اور زندگی پیدا کی تا کہ لوگوں کو جانچ کر دیکھے کہ ان میں سے کون اچھے عمل والا ہے اور کون برے عمل والا (الملک (۲)

جانچ کے اس مقصد کے لئے ضروری تھا کہ انسان کو قول و عمل کی مکمل آزادی دی جائے۔ آزادی کے بغیر نہ کسی کو جانچنا ممکن ہے اور نہ یہ فیصلہ کرنا ممکن ہے کہ وہ کس سیرت و کردار کا آدمی ہے۔ اس آزادی کو قرآن میں امانت کہا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے ۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم و جاہل تھا۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے ۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (الاحزاب ۷۲-۷۳)

یہ آزادی بے حد نازک چیز ہے، کیوں کہ یہ یقینی اندیشہ ہے کہ جب کسی مخلوق کو کام کی آزادی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page