سلطانی ماڈل، دعوتی ماڈل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ بعد کے زمانہ میں مسلم سلاطین مسلح فوجوں کو لے کر مختلف علاقوں میں گھس گئے۔ وہاں انہوں نے قائم شدہ حکومت کی فوجوں کو زیر کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ سلطانی ماڈل اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی مسلم تاریخیں تقریباً سب کی سب سلطانی ماڈل پر ڈھال دی گئیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے ان تاریخی کتابوں کو پڑھا اور یہ سمجھ لیا کہ اسلامی تحریک کا ماڈل بس یہی سلطانی ماڈل ہے۔ انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی سلطانی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھا اور مسلح جہاد کے نام پر اس کو ہر جگہ جاری کر دیا۔ یہی غلطی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب ہے۔
اسلامی عمل کا صحیح ماڈل وہ ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ نیز دوسرے پیغمبروں کی مثال سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماڈل دعوتی ماڈل ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد یہ ہے کہ اپنے عمل کی بنیاد اسلام کی نظریاتی اشاعت پر رکھی جائے۔ اُس کو مخاطب کے معیار فہم کے مطابق مدلّل کرتے ہوئے پیش کیا جائے۔ تشدد سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صرف پر امن ذرائع سے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ فریق ثانی اگر زیادتی کرے تب بھی یک طرفہ صبر کرتے ہوئے پر امن اشاعتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ ہر قیمت پر یہ کوشش کی جائے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی کا ماحول ہرگز قائم نہ ہونے پائے۔ معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے مفید ہوتا ہے اور غیر معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لئے غیر مفید۔ یہی دعوتی ماڈل ہے اور اسی طریقہ کو اختیار کر کے پیغمبر اسلام ﷺ نے خدا کے دین کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچایا۔ پیغمبرانہ ماڈل میں اصل عمل دعوت کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ وہ آغاز میں بھی دعوت ہے اور آخر میں بھی دعوت۔ بعض اوقات بطور استثناء محدود طور پر کسی سے دفاعی ٹکراؤ پیش آسکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ اعراض کی تمام کوششیں نا کام ہو گئی ہوں اور یک طرفہ جارحیت کی بنا پر اہل ایمان کو وقتی طور پر اپنے دفاع میں لڑنا پڑے۔ اس وقتی دفاع کے پہلے بھی دعوت ہے اور اس کے بعد بھی دعوت۔ پیغمبرانہ ماڈل میں دعوت کی حیثیت اقدام کی ہے اور جنگ کی حیثیت محدود معنوں میں صرف وقتی دفاع کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues