Al-Risala · April 2002 · page

دوگونہ غلطی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں نئے انقلابات ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عالمی صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے مسلح جنگ کو بالکل غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ صرف دعوتی عمل کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کر لیا جائے جو اسلام اور اہل اسلام کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچانے کے لیے درکار ہے۔

قدیم زمانہ میں اہل ایمان کو مذہبی جبر کے ماحول میں اپنا دعوتی کام کرنا پڑتا تھا، اب یہ دعوتی کام پوری طرح مذہبی آزادی کے ماحول میں کیا جاسکتا ہے۔ پہلے زمانہ میں حق کی پیغام رسانی کے لیے داعی کو پُر مشقت سفر کرنا پڑتا تھا، اب جدید کمیونیکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ خود دعوتی پیغام تیزی سے سفر کرکے دنیا بھر کے تمام لوگوں تک پہنچ سکے۔ قدیم زمانہ کے داعیوں کو مختلف قسم کے توہمات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا پیغام پھیلانا پڑتا تھا، مگر اب سائنسی انقلاب نے توہمات کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کھلی ذہنی فضا میں حق کے پیغام کو عام بنایا جاسکے۔ پہلے زمانہ میں معیشت کا انحصار صرف زراعت پر تھا، اس لیے داعیوں کو بہت کم وسائل کے ساتھ اپنا مشن چلانا پڑتا تھا، اب صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اقتصادی انفجار (economic explosion) کا زمانہ آگیا ہے، اب وہ کام معاشی فراوانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے جو پچھلے لوگوں کو صرف معاشی تنگی کے ساتھ کرنا پڑتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید تبدیلیوں نے دعوتی ماڈل کی افادیت اور اہمیت کو بہت زیادہ بڑھا دیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما صرف سلطانی ماڈل سے آشنا تھے، وہ دعوتی ماڈل کو یکسر فراموش کر چکے تھے۔ انہوں نے انتہائی بے دانشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ملت کو سلطانی ماڈل کے طریقہ پر ڈال دیا، اور پھر ملت کو بھی تباہ کیا اور خود اپنے آپ کو بھی۔

دوگونہ غلطی

جدید دور میں سلطانی ماڈل تباہ کن حد تک غیر مفید بن چکا تھا۔ مگر دو سو سال کا ناکام تجربہ بھی نااہل مسلم رہنماؤں کی بے خبری کو توڑنے والا ثابت نہ ہوسکا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کو مکمل

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page