Al-Risala · April 2002 · page

دوگونہ غلطی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

دونوں قسم کے تجربے امتحان کے لئے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہئے اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: لکیلا تأسوا علی مافاتکم ولا تفرحوا بما اٰ ٰتکم (الحديد ۲۳) قرآن کی اس آیت میں پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ رہنمائی ہے کہ کشمیر کو وہ اُسی طرح اختیارانِ طور پر کھوئے ہوئے خانہ میں ڈال دیں، جس طرح وہ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کو مجبورانہ طور پر کھوئے ہوئے خانہ میں ڈال چکے ہیں۔ کشمیر میں وہ اپنی موجودہ مایوسانہ سیاست کو ختم کر دیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (status quo) کو مان کر ہندستان سے معتدل تعلقات قائم کر لیں اور منفی سیاست کا طریقہ چھوڑ کر مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح ان کی ترقی کا وہ دروازہ کھل جائے گا جو آدھی صدی سے بھی زیادہ مدت سے اُن کے اوپر بند پڑا ہوا ہے۔ خلاصہ بحث ایکسویں صدی میں پہنچ کر اب آخری وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم رہنما تو بہ کے شرعی اُصول پر عمل کریں ۔ وہ اپنی دو سو سالہ غلطی کا کھلے طور پر اعتراف کریں۔ اور دعوتی ماڈل کے اصول پر اپنے اسلامی عمل کی از سر نو منصوبہ بندی کریں۔ اس اعتراف اور تصحیح عمل سے کم کوئی چیز موجودہ تباہ کن صورت حال کو بدلنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page