فتح مبین کا راز
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
فتح مبین کا راز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طور پر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہو گئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہو سکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میں اعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو (give and take) کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اپنے مخالفین کے اس مطالبہ کو مانا کہ وہ مکہ میں داخلہ کے بارے میں اپنے حق کو چھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں مخالفین اس پر راضی ہوئے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف اپنی جنگی کارروائی کو ترک کر کے انہیں امن کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لئے ہے جو احساس شکست کے بغیر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہوں۔ اس دنیا میں پانا صرف اس انسان کے لئے مقدر ہے جو دوسروں کو دینے کے لئے راضی ہو جائے۔ اس دنیا میں کامیاب اقدام کی خوش قسمتی صرف اس کو ملتی ہے جو دوسروں کو راستہ دینے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتا ہو۔ اب اس اصول کی روشنی میں کشمیر کے مسئلہ کو سمجھئے۔ پاکستان کے لیڈروں نے کشمیر کے نزاع کو حل کرنے کے لئے جو پالیسی اختیار کی، وہ مکمل طور پر نا کام ثابت ہوئی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں مذکورہ قرآنی اصول کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو جانا مگر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues