فتح مبین کا راز
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
انہوں نے فطرت کے قانون کو نہیں جانا۔
۱۹۷۴ء میں یہ مسئلہ بالکل سادہ تھا۔ جیسا کہ الرسالہ میں ایک سے زیادہ بار لکھا جا چکا ہے، اس وقت یہ مسئلہ اپنی فطری حالت میں تھا۔ اس وقت پاکستانی لیڈروں کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ حیدرآباد پر اپنے دعویٰ کو چھوڑ دیں اور اس کے نتیجہ میں پورا کشمیر انہیں حاصل ہو جائے۔ مگر پاکستان کے لیڈر اپنی نا قابل فہم نادانی کی بنا پر ایسا نہ کر سکے اور یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تباہ کن نزاع کے طور پر باقی رہا۔
بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے ۹۳ ہزار فوجی انڈیا کے قبضہ میں آگئے۔ اس وقت یہ ممکن تھا کہ ان ۹۳ ہزار فوجیوں کو دے کر پاکستان سے کشمیر کے معاملہ کا مستقل تصفیہ کر لیا جائے مگر دوبارہ دونوں ملکوں کی قیادت ناکام رہی اور اس قیمتی موقع کے باوجود کشمیر کا مسئلہ بدستور غیر حل شدہ صورت میں پڑا رہا۔
۲۰۰۱ء کے آخر میں آگرہ میں کشمیر کے سوال پر دونوں ملکوں کے لیڈروں کی کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ صورت موجودہ (statusquo) کو مان کر اس کا تصفیہ کر لیا جائے۔ یعنی کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے قبضہ میں ہے وہ پاکستان کا حصہ بن جائے اور اس کا جو حصہ انڈیا کے زیر انتظام ہے، اس کو انڈیا کا مستقل حصہ مان لیا جائے۔ مگر اس بار بھی دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا اور یہ نزاعی معاملہ پہلے جہاں تھا وہیں اب بھی باقی رہا۔ آخری صورت کے طور پر راقم الحروف نے الرسالہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس معاملہ میں ایک قسم کی ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) اختیار کر لی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کے سیاسی سوال کو دوسرے اہم تر انسانی سوالات سے الگ کر دیا جائے ۔ کشمیر کے مسئلہ کو سختی کے ساتھ پرامن بات چیت کی میز پر رکھ دیا جائے اور اس کے سوا جو اہم تر غیر سیاسی معاملات ہیں ان میں پوری طرح نارمل پالیسی اختیار کر لی جائے۔ مثلاً تجارت، تعلیم، آمد و رفت، سیاحت، ثقافتی تعلقات اور دوسرے انسانی معاملات میں اسی طرح معتدل تعلقات قائم کر لئے جائیں جس طرح انڈیا اور نیپال
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues