فتح مبین کا راز
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
سوال
میں نے آپ کی کچھ تحریریں پڑھی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے ہیں ۔ صلح حدیبیہ تو قدیم زمانہ میں ایک خاص وقت کے لحاظ سے تھی۔ موجود زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اس کی مناسبت (relevance) کیا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (خالد انصاری، نئی دہلی) جواب صلح حدیبیہ کوئی منفرد تاریخی واقعہ نہیں۔ وہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر زمانہ سے ہے۔ وہ فرد کی زندگی کے لئے بھی کارآمد ہے اور قوم کی زندگی کے لئے بھی۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اکثر دو فریقوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ یہ نزاع بظاہر کسی حق یا کسی انصاف کے لیے ہوتی ہے۔ مگر زندگی کا قانون یہ ہے کہ آپ اپنا حق فریق ثانی سے نہیں لے سکتے۔ آپ کا مطلوب حق خود آپ کے تعمیری عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ فریق ثانی سے ملا ہوا عطیہ ۔ حدیبیہ پرنسپل یہ بتاتا ہے کہ جب کسی سے نزاع قائم ہو جائے تو نزاع کو حق یا انصاف کا سوال نہ بناؤ بلکہ اس کو امن کا سوال بناؤ۔ یعنی ہر قیمت پر جلد سے جلد نزاع کو ختم کر دو۔ نزاع کو ختم کرنے کا مطلب حالات کو نارمل بنانا ہے۔ نزاع کے وقت یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ساری طاقت فریق ثانی سے لڑنے میں ضائع ہونے لگتی ہے۔ عین اسی وقت آپ کے لئے مواقع کار موجود ہوتے ہیں۔ مگر آپ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتے۔ جب کہ کامیابی ہمیشہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتی ہے، نہ کہ حقوق کی لڑائی لڑنے سے۔
حدیبیہ پرنسپل ایک ابدی پرنسپل ہے۔ یہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے نارمل حالات پیدا کرو، تاکہ تمہیں موجودہ امکانات کو استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ نزاع کو غیر مشروط طور پر ختم کرنا بظاہر نقصان کا ایک معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر نقصان کوئی مطلق چیز نہیں، نقصان ایک تقابلی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کو باقی رکھنے میں بھی نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں بھی نقصان ۔ اب آپ کو یہ کرنا چاہئے کہ دونوں قسم کے نقصان کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues