Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

موازنہ کریں۔ اگر آپ اس طرح موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نزاع کو باقی رکھنے میں زیادہ نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں کم نقصان۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا گو یا زیادہ نقصان کے مقابلے میں کم نقصان کو اختیار کرنا ہے۔ اور بلا شبہہ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ نقصان والی صورت کو چھوڑ دیا جائے، اور کم نقصان والی صورت کو اختیار کر لیا جائے۔ مزید یہ کہ حدیبیہ اصول پر نزاع کو ختم کرنے والے لوگ اگر دانش مند ہوں تو یہ تدبیر ان کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑے فائدہ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور وہ ہے وقتی نقصان کو گوارا کر کے مستقبل کے عظیم تر فائدہ کو محفوظ کر لینا ۔

سوال

اسلام کے مطابق، جنت اس کو ملے گی جو خدا کی شریعت پر عمل کرتا ہو ۔ مگر یہ نظریہ ایک محدود نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو خدا کی شریعت کی بات نہیں کرتے مگر وہ ایک با اخلاق زندگی گزارتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ، وہ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں، وغیرہ۔ اس قسم کے بہت سے اچھے لوگ ہیں۔ آخر وہ خدا کی جنت سے محروم کیوں رہیں گے ۔ یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی ۔ (رجت ملہوترا، نئی دہلی)

جواب

یہ صحیح ہے کہ غیر خدا ترس لوگوں میں بھی بظاہر کچھ اخلاقی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ صحیح معنوں میں اخلاق نہیں ہوتا۔ زیادہ درست طور پر اس کو سماجی برتاؤ (social manners) کہا جا سکتا ہے۔ کوئی آدمی اس قسم کی اخلاقی روش اس لئے اختیار کرتا ہے تا کہ سماج میں اس کو اچھا سمجھا جائے۔ یہ خود پرستی کی ایک صورت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتاً خدا پرستی کی صورت۔ اس سماجی اخلاق کی اصلیت اس وقت کھل جاتی ہے جب کہ کوئی حقیقی جانچ کا موقع آجائے، جب آدمی کو اپنا کوئی بڑا مفاد خطرہ میں جاتا ہوا نظر آئے، جب کسی اخلاقی تقاضہ کو پورا کرنے کے لئے اس کو اپنی انا کو قربان کر دینا پڑے۔ اس قسم کا اخلاق ذاتی انٹرسٹ کے تابع ہوتا ہے، وہ مستقل اصول

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page