Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

کوشش کی ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے خانہ نشین عورت بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ جس کو مغربی لوگ صرف غیر خانہ نشین عورتوں کے لیے ممکن سمجھتے ہیں۔ اس نکتہ کو ثابت کرنے کے لیے میں نے کتاب میں تین خواتین کی مثالیں دی ہیں__ حضرت اسماء، مریم زمانی، زیب النساء۔ میری کتاب کی مذکورہ عبارت میں نعوذ باللہ کسی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہرگز نہیں ہے طورپر نہ ہوسکتی ہے۔ اس میں سادہ طور پر، تین خواتین کا، خاتون کی حیثیت سے رول بتایا گیا ہے۔ عبارت کے مدعا کے مطابق، اس مثال میں مذکورہ خاتون کا صحابیہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔

بلاغت کا مسلم اصول ہے کہ تمثیل کے طریقہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیش نظر مثال کا متعلق پہلو ہی مقصود ہوتا ہے۔ اور اس کے علاوہ دیگر پہلو وہاں غیر متعلق قرار پاتے ہیں۔ In employing the method of anology, it should always be possible to show that the resemblances noted bear relevance on the point to be established whereas the differences are irrelevant. (1/337)

مذکورہ تنقید میں دو واضح غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ناقد نے اس علمی نکتہ کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس مثال میں حضرت اسماء کا نام صحابیہ کی حیثیت سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری دو خواتین کی طرح، ان کا نام بھی یہاں ایک خانہ نشین خاتون کی حیثیت سے مراد ہے۔ دوسری بات یہ کہ میری کتاب میں ان خواتین کا نام تنقید کے مقصد سے نہیں لایا گیا ہے بلکہ ان کے تعریفی کارنامہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے۔ مذکورہ ناقد نے اپنے ایک ذہنی تخیل کو شامل کر کے غیر ضروری طور پر اس کو قابل اعتراض بنانے کی کوشش کی ہے۔ اور اس طرح انہوں نے ایک تعریفی حوالہ کو خلاف واقعہ اور تنقیدی حوالہ بنا دیا ہے۔ سوال ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں میں اور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میں بھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعہ کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے۔ سیکولر یونیورسٹیوں میں اور دینی مدارس میں اس اعتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page