Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

دین کے مطابق، چونکہ درست نہیں تھا، اس لیے دیکھیے کہ وہ ان کا اور ان کی والدہ کا ذکر کیسے کرتے ہیں: ”میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں (اسما) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لیے آمادہ ہو گیا۔ شہنشاہ اکبر کی ماں (مریم مکانی) نے اکبر کو ملا عبد النبی کے خلاف کارروائی سے روکا۔ چنانچہ اکبران کے خلاف سخت کارروائی سے باز رہا، وغیرہ وغیرہ۔

راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہو جاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اکساتی رہتی تو یقینی طور پر میری زندگی کا رخ دوسرا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ “ مولانا وحید الدین کے نزدیک صحابہ پر تنقید کرنا جائز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عبد اللہ ابن زبیر پر تنقید نہیں؟ کیا یہ حضرت اسما بنت ابی بکر پر تنقید نہیں ......؟ ہم اس بات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خاں کی رائے میں صحت کا امکان کتنا ہے، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت اسما کا ذکر اس اسلوب میں اور اس تقابل کے ساتھ، کیا تنقید کا کوئی قابلِ تحسین اسلوب ہے؟ “ (ایک قاری الرسالہ، لاہور)

جواب

پاکستانی ماہنامہ کے مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلا شبہ غیر علمی بھی ہے اور غیر ذمہ دارانہ بھی۔ یہ اعتراض راقم الحروف کی کتاب (خاتون اسلام) کے ایک باب سے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص اس باب کو غیر جانبدارانہ انداز سے پڑھے تو یقیناً وہ جان لے گا کہ اس باب کا موضوع صحابہ یا صحابیہ کی روش پر تبصرہ نہیں ہے، جس کی ایک مثال ’’خلافت و ملوکیت‘‘ نامی کتاب ہے۔ میری کتاب کا موضوع اس کے برعکس صرف ایک مغربی پروپیگنڈہ کا جواب ہے۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page