Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے ایجابی مزاج کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت پہلو دریافت کرلے۔

دورِ اول کے مسلمانوں کے اندر یہ صفت کامل طور پر موجود تھی ۔ اس کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں ۔ ان کے اقدامات اتنے کامیاب تھے کہ ایرانی فوجی اپنا حوصلہ کھو بیٹھے۔ وہ ان کے بارے میں کہنے لگے کہ دیواں آمدند، دیواں آمدند (دیو آگئے، دیو آگئے)۔ اس وقت ایرانی حکومت نے جنگ کو روک کر گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مسلم فوج کے کئی وفد ایرانیوں سے ملے۔ آخری وفد عاصم بن عمر و کا تھا۔ انہوں نے شاہ ایران یزدگرد کے دربار میں پہنچ کر جس بے باکی کا مظاہرہ کیا اس سے شاہ ایران غصہ ہو گیا۔ اس نے حکم دیا کہ مٹی کا ایک ٹوکرااالایا جائے ۔ اس کے بعد اس نے صحابی کے سر پر مٹی کا یہ ٹوکرارکھوایا اور حکم دیا کہ ان کو اسی حال میں شہر کے باہر نکال دو۔

صحابی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوئے ۔ وہ اسلامی فوج کے سردار سعد بن ابی وقاص کے خیمہ میں پہنچے اور مٹی کا ٹوکر ان کے سامنے رکھ کر پورا قصہ بتایا۔

شاہ ایران کا یہ سلوک بلا شبہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ مگر حضرت سعد غصہ نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو خوش خبری ہو کیوں کہ خدا کی قسم انہوں نے اپنے ملک کی کنجیاں ہمارے حوالے کر دیں۔ (مٹی کا ٹوکر دینے سے انہوں نے یہ فال لیا کہ ایرانیوں نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالے کر دیا ہے) البدایہ والنہایہ ۷/ ۳۸-۳۹۔

اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ زوال کی نفسیات اور عروج کی نفسیات میں کیا فرق ہے۔ زوال کی نفسیات میں مبتلا لوگ محرومی کے احساس میں جیتے ہیں ، چنانچہ وہ ہر واقعہ سے منفی غذا لینے لگتے ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ عروج کی نفسیات میں جیتے ہوں ، وہ ہر واقعہ سے مثبت غذا لیتے ہیں ۔ وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو تلاش کرلیں۔ ۱۴ مئی ۲۰۰۱، حتیٰ کہ اپنے minus کو بھی اپنے plus میں تبدیل کر لیں ۔

دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page